کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے نیو کراچی ٹاؤن، سیکٹر 5 جی میں عوام رابطہ مہم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی ان خواہش کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی جگہ بھی اپنی زندگی میں کسی ایک نوجوان کو پارٹی قیادت کا موقع فراہم کروں اور ایسا الیکشن جیتنا چاہتا ہوں جس سے پی ایس پی نہیں بلکہ پوری قوم کامیاب ہو۔ تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ کمال نے نیو کراچی ٹاؤن میں خطاب کے دوران اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جگہ بھی اپنی زندگی میں ایک نوجوان کو پارٹی قیادت دینے کی خواہش ہے۔ نوجوان نسل میں مثبت سوچ اجاگر کرنے کی ضرروت ہے انہیں مسائل سننے کے بجائے ایک بہتر اور روشن مستقبل کے لیے لائحہ عمل چاہیے، ہمارے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں اور ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں منفی سوچ نے پوری قوم کو سوائے نقصان کے کچھ نہیں دیا۔ ہم جماعتوں، جھنڈوں، مسلکوں میں تقسیم ہوچکے ہیں جس سے ملک ترقی سے دور ہو چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سید مصطفیٰ کمال نے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں نیو کراچی ٹاؤن سیکٹر 5 جی, یو سی 11 انصاری محلہ میں عوام سے ملاقاتوں کے دوران مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اس نظریے پر قائم ہوں کہ مہاجر نام کا نعرہ لگا کر دیگر قومیتوں کو مہاجروں کا دشمن نہیں بناؤں گا۔ مہاجروں کے راستوں میں مزید کانٹے نہیں بچھانا چاہتا بلکہ انکے راستوں سے کانٹے ہٹانے ہیں، اپنے ذاتی مفاد کے لیے یا سیٹوں کے لیے ہرگز وہ کام نہیں کریں گے جو غلط ہو اور جس پر ہمارا ضمیر مطمئن نہ ہو۔ آج تک سب یہ کوشش کرتے آئے ہیں کہ مہاجروں کو پہلے ساری دنیا سے لڑوا دیں پھر انکے مسیحا بن جائیں،اسی لیے جب ہم نے ایک بالکل مختلف نظریہ پیش کیا تو لوگ پہلے اسے سمجھ نہیں سکے لیکن اب لوگوں کو ہماری بات سمجھ آرہی ہے اور بڑی تعداد میں ہمارے ساتھ جڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر اور ناانصافی ایسی معاشرتی برائیاں ہیں جو فرد اسر معاشرے کو تباہی کی طرف لے جاتی ہیں، اس لیے ہمیں اپنی اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بچانے کیلئے خود متحد ہونا پڑے گا۔ منفی سوچ نے پوری قوم کو سوائے نقصان کے کچھ نہیں دیا۔ ہم جماعتوں، جھنڈوں، مسلکوں اور آپسی تفرقات میں بٹ کر ترقی کی راہ سے ہٹ گئے.پاک سر زمین پارٹی کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں تفرقات اور نفرت کو ختم کرنے، مثبت سوچ اور محبتوں کو پروان چڑھانے کی جدوجہد کر رہے ہیں. ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ایک تہذیب یافتہ اور مثبت سوچ کی حامل قوم بنیں۔
![]()