Home / اہم خبریں / ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود سپریم کورٹ کے احکامات پر پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے عمل نہیں ہوا۔ طلبہ والدین

ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود سپریم کورٹ کے احکامات پر پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے عمل نہیں ہوا۔ طلبہ والدین

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پرائیوٹ اسکولز میں زیر تعلیم طالب علموں کے والدین نے کہا ہے کہ ایک مہینہ گزرجانے کے باوجود سپریم کورٹ کے احکامات پر پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے عمل نہیں ہوا ہے ۔پچھلے 7 سال سے تعینات ڈی جی پرائیویٹ اسکولز صرف درخواست وصول کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عبدالرحمان، طلحہ رانا، فیصل صدیقی، دانش ادریس، شعیب مدثر، عدیل شجاعت، محمود عالم، سیماب بٹ نے جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے احکامات جاری ہوئے تھے کہ پورے پاکستان کے پرائیویٹ اسکول اپنی فیسوں میں 20 فیصد کمی کریں لیکن تمام پرائیویٹ اسکولوں نے 40 فیصد بڑھا کر 20 فیصد کمی کی ہے۔ ہم قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں۔ بغیر کسی قانون کے تحت فیس میں اضافہ قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ اسکولز مالکان قوم کو بیوقوف بنانے کے ساتھ سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ ہم نے متعد بار اسکول انتظامیہ سے بات کی ہے کہ قانون کے مطابق ہم سے فیس وصول کی جائے۔ ہمیں ابھی معلوم نہیں کہ ہم کیا کریں۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کون کروائے گا۔ ہماری سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ کوئی ایسا میکنزم بنایا جائے جس کے ذریعہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کروایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دے اور کسی ایسے افسر کو کو ڈی جی ایجوکیشن بنائیں جنہیں کام کرنے میں دلچسپی ہو۔ وزیر تعلیم اسکول انتظامیہ کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں۔ اگر ان سے نہیں چلتے تو اسکولز ہمارے حوالے کردیں ہم کم فیسوں میں یہ اسکول چلاکر دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو ہم دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے اور مسئلہ حل نہ ہوا تو اسکولوں کے سامنے خود سوزی کریں گے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

IoBM Squash Satellite Championship 2026 Concludes Successfully in Karachi

By Zeeshan Hussain Karachi: The inaugural IoBM Squash Satellite Championship 2026 concluded successfully after four …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے