کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ایپی لیپسی فاﺅنڈیشن کی صدر نیورولوجسٹ اور ماہر امراض مرگی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی، لاڑکانہ کے زیراہتمام 2 روزہ سالانہ ”میڈیسن اینڈ الائید کانفرنس 2019 “ میں آرگنائزنگ کمیٹی نے مرگی کی بیماری اور اس کے علاج سے متعلق موضوع پر اظہار خیال کیلئے خصوصی طور پر مدعو کیا تھا۔”میڈیسن اینڈ الائید کانفرنس 2019 “کے انعقاد کا مقصد صحت کے مسائل پر بیداری اور علاج کے جدید طریقہ کار کو اجاگر کرنا تھا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی اور مرگی کے امراض کے بارے میں توہمات کو ختم کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں ذہنی اور مرگی کی بیماری کا علاج کرانے کی بجائے اسے باعث شرم سمجھ کر آخری حد تک چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے جوکہ مرض کو پیچیدہ بنانے کا سبب بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرگی کی بیماری کے علاج کیلئے دنیا بھر میں نئی ادویات اور ڈیوائسز سے استفادہ کیا جارہا ہے جنہیں پاکستان میں بھی لانے کی ضرورت ہے۔ حکومت مرگی کی بیماری کے علاج کیلئے سرکاری اسپتالوں پر خصوصی توجہ دے اور ادویات اور ڈیوائسز پر سبسڈی دے تاکہ عام لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچے۔ مہنگی ادویات اور ڈیوائسزعام لوگوں کی پہنچ سے دور ہونے کی وجہ سے پاکستان میں مرگی کے مرض کی شرح 10 فیصد ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ”مرگی کے علاج کے بارے میں نئے تصورات اور طریقہ کار “ سے کانفرنس کے مندوبین کو آگاہ کیا۔
![]()