Home / اسلام آباد / راجہ زاہد محمود ایڈووکیٹ سابق صدر اسلام آباد بار سے خصوصی انٹرویو محمد جواد بھوجیہ کیساتھ

راجہ زاہد محمود ایڈووکیٹ سابق صدر اسلام آباد بار سے خصوصی انٹرویو محمد جواد بھوجیہ کیساتھ

جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں 1963 میں اسلام آباد کو وفاقی دارلحکومت کا درجہ دیا گیا ۔ ایک ماسٹر پلان کے تحت دنیا کے بہترین ماہرین نے بلاشبہ دنیا کا ایک خوبصورت شہر آباد کیا جس میں تمام انتظامی امور، امور حکومت اور دیگر اہم ترین عمارات کی ایک خاص نقشہ کے تحت تعمیر کی گئی تاہم نقشہ نگار ماہر تعمیرات یا انتظامی افسران کی غفلت کی وجہ سے ایک اہم چیز کی عدم تعمیر اور ماسٹر پلان میں عدم موجودگی نے بڑے سوالات کھڑے کیے وہ اہم ترین چیز اب بھی وفاقی دارلحکومت کی تعمیر کے 36 سال بعد بھی محض خواب ہی ہے وہ ہے عدالتی کمپلیکس۔ 1963 سے لے کر اب تک اسلام آباد میں عدالتیں کرائے کی بلڈنگز میں کام کررہی ہیں جو کسی بھی انصاف پسند معاشرے کے لیے کسی بھی طرح ایک اچھی علامت تصور نہیں کی جاتی وہیں اب وفاقی دارلحکومت میں رجسٹرد وکلا کی تعداد 4500 تک پہنچ گئی ہے جن میں 3000 کے قریب باقاعدہ پریکٹس میں ہیں اسلام آباد کے وکلا کی حالت زار بھی عدالتی کمپلیکس کی مانند ہے جنہیں 36 سال سے چیمبرز کے لیے مناسب جگہ نہیں مل سکی ہے مناسب جگہ نہ ملنے کی وجہ سے وکلا اب مجبور ہیں کہ وہ کورٹ کے احاطہ میں ہی چیمبرز بنارہے ہیں۔

ان تمام مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے نوپ نیوز نے بار کے سابق صدر اور بار کی ایک متحرک شخصیت راجہ زاہد محمود سے خصوصی انٹرویو کیا راجہ زاہد محمود کا تعلق جہلم سے تاہم وہ اسلام آباد میں 1990سے پریکٹس کررہے ہیں انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے 1990 میں ایل ایل بی (آنرز) کا امتحان امتیازی پوزیشن میں پاس کیا اور پریکٹس کے لیے بھی وفاقی دارلحکومت کو ہی منتخب کیا۔

راجہ زاہد محمود کہتے ہیں کہ وکلا کسی بھی معاشرہ میں اہم ترین تصور کیے جاتے ہیں، شعبہ وکالت پروفیشن آف لارڈز ہے انہیں قانون کی پاسداری کا بخوبی علم ہوتا ہے لوگوں کو قانون کے متعلق آگاہی وکلا کی اہم زمہ داری تصور کی جاتی ہے۔ تاہم وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے وکلا کے مسائل یہاں پر آنے والے سائلین سے زیادہ ہیں۔ اسلام آباد میں پریکٹسنگ لائرز کی تعداد 3000 سے بڑھ گئی ہے۔ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی وکلا کے چیمبرز ان وکلاء کی گاڑیاں ہیں۔ تاہم عدالتیں گذشتہ 36 سال سے بوسیدہ کرائے کی عمارتوں میں کام کررہی ہیں۔ عدالتی کمپیلکس کی تعمیر کا وعدہ گذشتہ 30 سالوں سے حکومت کی طرف سے کیا جارہا ہے تاہم اس پر عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے، شاہراہ دستور پر ہائی کورٹ کی تعمیر کا منصوبہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ حالانکہ اس بلڈنگ کی تعمیر کے کام کی نگرانی ایک جج کو سونپی گئی ہے تاہم حکومتی سطح پر عدم توجہی کا یہ عالم ہے ہے کہ کئی سالوں سے منصوبہ جوں کا توں ہے وہیں پر

راجہ زاہد کہتے ہیں کہ ہائی کورٹ کی منتقلی کے بعد جس جگہ ضلعی عدالتوں کو منتقل کیا جائے گا وہ ہائی کورٹ اسلام آباد کی موجودہ بلڈنگ ہے جہاں پر زیادہ سے زیادہ دس عدالتوں کی گنجائش ہے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس وقت 65 کے قریب عدالتیں کام کررہی ہیں یہ جگہ کورٹ کمپیلکس کے لیے ناکافی ہے تاہم اس جگہ پر ایک ملٹی سٹوری بلڈنگ اور پارکنگ پلازہ اور وکلا کے لیے بھی ملٹی سٹوری بلڈنگ ہی چیمبرز کی ضرورت کو پورا کرسکتی ہے۔

راجہ زاہد محمود اسلام آباد کی مقامی عدالتوں میں تعینات ججز کی روٹیشن چاہتے ہیں ان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت ایک سرکاری ملازم ایک جگہ پر ایک مخصوص عرصہ کے لیے تعینات ہوسکتا ہے تاہم مستقل ایک جگہ پر تعیناتی کسی بھی طرح قانون کے مطابق نہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ججز روٹیشن وقت کی اہم ترین ضرورت ہے سپریم کورٹ اس معاملے کو فوری طور پر دیکھے وہیں سابق صدر بار نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد کی مقامی عدالتوں میں تعینات ججز مقامی ہیں ان کے چیمبرز یہاں موجود ہیں عمومی تاثر بھی یہی ہے کہ وہ اپنے چیمبرز کو رریلیف دیتے ہیں جس کی وجہ سے پروفیشنل ازم متاثر ہورہا ہے اور پروفیشنل وکلا کے لیے مسائل بڑھ رہے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ججز کو مختلف علاقوں میں تعینات کیے جانے سے ان ججز کی بھی تربیت ہو گی اور مختلف علاقوں میں کیسز کی مختلف نوعیت کی وجہ سے ججز کے تجربہ میں بھی اضافہ ہوگا اسلام آباد بار میں جاری ہڑتا ل کا مرکزی نقطہ بھی ججز کی روٹیشن ہے۔

مقامی عدالتوں میں زیر التوا کیسز کی بڑی تعداد کی وجہ بھی راجہ زاہد کے بقول مقامی عدالتوں میں تعینات ججز ہیں ماضی میں ججز کم تھے کیس زیادہ تھے تاہم زیر التوا کیسز کی تعدا بہت کم تھی تاہم اس حقیت کو راجہ زاہد بھی مانتے ہیں کہ کیسز میں التواء کی بڑی وجہ وکلاء بھی ہیں۔ راجہ ذاہد محمود سے جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے دو سالہ بطور چیف جسٹس کے دور کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار صاحب نے عدلیہ کے وقار اور عوام میں عدلیہ پر اعتماد کی جو مثال پیدا کی اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

ان کے دور میں جس طرح عوام کو انصاف کے معاملے میں جو ریلیف فراہم کیا گیا وہ ایک قابل تقلید مثال ہے، بہت سے مسائل ایسے تھے جہاں حکومت پیچھے ہٹ گئی تھی لاء اینڈ آرڈر کے مسائل تھے ادارے کام کرنے کو تیار نہ تھے ثاقب نثار صاحب نے عدالتی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے وہ کام کیے جو حکومت کو کرنا چاہیے تھے تاہم حکومت بے بس ہو گئی تھی ان کے دور میں طاقتور کا احتساب ہوتا دکھائی دیا جس کی وجہ سے کمزور طبقہ میں اس احساس نے جنم لیا کہ اب ان کی آواز بھی سنی جاسکتی ہے اور عدالت ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا۔


سابق چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے متعلق راجہ زاہد کا مزید کہنا تھا کہ ہفتہ اور اتوار سپریم کورٹ کی چھٹی ہوتی ہے تاہم ان دو سالوں میں سپریم کورٹ ان دو چھٹی کے دنوں میں بھی کام کرتی نظر آئی ثاقب نثار صاحب نے جو وقت اپنی فیلی کو دینا تھا وہ وقت بھی عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے وقف کردیا جو ایک بہت بڑی قربانی ہے ان کے دور میں ڈیم کے لیے فنڈنگ اور اس معاملے پر عوامی آگہی ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا اہم ترین منصوبہ ہے حکومتیں اس حوالے سے سیاسی پوائینٹ سکورنگ میں مصروف تھیں جس کی وجہ سے گذشتہ تین دہائیوں سے ملک میں کوئی برا ڈیم نہ بن سکا پاکستان میں 2025 سے خشک سالی شروع ہوجائیگی جو انتہائی خوفناک ہے اس اہم ترین منصوبہ کے آغاز سے اب نہ صرف پاکستان خشک سالی سے بچ جائے گا بلکہ ہماری انرجی کی ضروریات بھی پوری ہونگیں۔

راجہ زاہد سابق چیف جسٹس کے متعلق اس ڈیم کے فنڈ اور تعمیر کے حوالے سے چلائے گئے منفی پراپیگنڈہ کو بے بنیاد اور ملک کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔

نئے چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کے متعلق سابق صدر بار کہتے ہیں کہ وہ ایک وژنری شخصیت کے مالک ہیں اور ایک زیرک، بہادر اور جانفشانی سے کام کرنے والے جج ہیں ان سے عوام کو بہت زیادہ توقعات ہیں وہیں التوا کیسز کو ختم کرنے میں ان کی ایک شہرت ہے۔ آرٹیکل 184 ، 3 کے استعمال کے حوالے سے راجہ زاہد کہتے ہیں کہ جب ادارے ناکام ہو جائیں اور معاملہ عوامی مفاد کا ہو تو عدالت کا یہ حق ہے کہ وہ اپنا قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس پر سوموٹو ایکشن لیں اس سے ان لوگوں کی بھی شنوائی ہوگی جو کمزور ہیں اور سمجھتے ہیں کہ طاقتور کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکتے راجہ زاہد یہ امید رکھتے ہیں کہ نئے چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ عوامی توقعات اور امیدوں پر پورا اتریں گے اور عدلیہ کے وقار میں مزید اضافہ کریں گے۔

خصوصی انٹرویو محمد جواد بھوجیہ

About admin

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں “کراچی میوزیم آف ہسٹری” کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں بیچ ویو پارک کے مقام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے