کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ایپکا کا سندھ مدرستہ السلام یونیورسٹی یونٹ کی طرف سے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ کے خلاف پریس کلب کراچی پر تین روزہ 8 ،9 اور 10 جنوری 2019 پرعلامتی بھوک ہڑتال اور پر امن احتجاج رکارڈ کروایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی شیخ نے 113 ملازمین کو جبری برطرف، جبری ریٹائر یا جبری مستعفی کرکے غریب ملازمین کو فاقہ کشی کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور ملازمین کے بچوں کو اسکول سے دھکے دے کر نکال دیا دیا گیا ہے جوکہ انتہائی مذمت والا عمل ہے۔ جبکہ غریب اور ایماندار ملازمین کی بے عزتی، ڈرانہ، دھمکانہ اور نوکری سے فارغ کرنا معمول بنا رہتا ہے۔ نوکری سے برطرف ہوئے ایپکا ملازمین نے وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس آف سندھ ، وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، وزیر تعلیم سندھ کو اپنا علامتی بھوک ہڑتال اور پر امن احتجاج کر کے اپیل کی ہے کہ سندھ مدرستہ السلام یونیورسٹی میں غیر قانونی برطرفیاں بند کی جائیں اور بر طرف ملازمین کو بحال کیا جائے۔ ملازمین کی جبری رٹائرمنٹ بند کی جائے اور جو حالیہ جبری رٹائرمنیٹ کئے گئے ہیں ان کو جلد بحال کیا جائے اور ملازمین کے خلاف جھوٹی کاروائیاں بند کی جائیں۔ ملازمین کے بے دخل کئے گئے بچون کو اسکول میں دوبارہ داخلہ دے کے ان کی تعلیم جاری رکھی جائے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ جوکہ خود غیر قانونی اور بغیر سرچ کمیٹی کے تعینات ہیں ان کے غیر قانونی اقدامات کو روکا جائے۔
![]()