کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) گورنر سندھ عمران اسماعیل کی صحافیوں کے وفد سے ملاقات، مسائل حل کرانے کیلئے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کی یقین دہانی، تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب میں جعلسازی کے ذریعے غیر صحافیوں کی ممبرشپ کیخلاف قائم جرنلسٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے کور کمیٹی کے اراکین منور عالم، غازی جھنڈیر، فواد محمود، عبید اعوان، حمید سومرو، سہنی پارس، سید زید، حمید سندھو، حسن کاظمی، نواز بھٹو و دیگر کی قیادت میں صحافیوں نے کراچی پریس کلب پہنچ کر کلب میں جعلی ممبر شپ کےخلاف احتجاج کیا اس موقع پر سینیئر صحافی یوسف جوکھیو، سردار ممتاز انقلابی، شمشاد علی خان، مظھر عباس رضوی، حسن عسکری، ملک منور حسین، جی ایم گوپانگ، نذیر سیال، آفاق بھٹی، اختر روہیلا، جاوید جدون، پرویز جٹ، ارم بانو، ارشاد خلجی، جنید بغدادی و دیگر نے کہا کہ کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی نے صحافیوں کے اجتماعی گھر پر قبضے کیلئے جعلسازی کرکے غیر صحافیوں کو ممبرشپ دے کر پریس کلب کے آئین کو لتاڑا ہے۔ کلب کی ممبرشپ کے حوالے سے ایک جماعت سے وابستگی اور چاپلوسی جیسے معیار بناکر صحافیوں کو طبقات اور ٹولوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ صحافی پریس کلب سے احتجاجی مارچ کرتے ہوے گورنر ہاوس کے وی آئی پی گیٹ پر پہنچے جہاں پی ٹی آئی کے ایم پی اے جمال صدیقی نے صحافیوں کا استقبال کیا بعد ازاں ایکشن کمیٹی کے پانچ رکنی وفد نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کرکے انہیں کراچی پریس کلب کی ممبرشپ میں کی گئی جعلسازی کے حوالے سے یاد داشت نامہ پیش کیا۔ گورنر نے صحافیوں کے وفد کو انکے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ جرنلسٹس ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر کراچی پریس کلب میں بھرتی کیئے گئے جعلی ممبران کو نکال باہر نہ کیا گیا تو اگلے مرحلے میں پریس کلب سے وزیر اعلی ہاوس تک احتجاجی مارچ کرتے ہوئے وزیر اعلی ہاوس کے سامنے غیر معینہ مدت تک دھرنا دیا جائیگا۔
![]()