Home / اہم خبریں / پمز انتظامیہ طاقتور مافیاء کے سامنے بے بس ہو گئی طالبہ کو ہراساں کیے جانے کے معاملہ کو دبائے جانے کا انکشاف- زرائع

پمز انتظامیہ طاقتور مافیاء کے سامنے بے بس ہو گئی طالبہ کو ہراساں کیے جانے کے معاملہ کو دبائے جانے کا انکشاف- زرائع

اسلام آباد (رپورٹ: محمد جواد بھوجیہ ) پمز کے شعبہ نرسنگ کی طالبہ کو ہراساں کیے جانے والے معاملہ میں مزید تحقیقات سامنے آرہی ہیں جنہوں نے معاملہ کو مزید پیچیدہ کردیا ہے ذرائع پمز کا کہنا ہے کہ طالبہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ کیس واپس لے لیں زرائع نے انکشاف کیا کہ پمز نرسنگ یونین کے سربراہ امام دین کی طرف سے ایک ٹیچر کی موجود گی میں متاثرہ طالبہ کو دھمکیاں دیں اور کیس فوری طور پر واپس لینے کے لیے کہا وہیں طالبہ کو کہا گیا کہ اگر کیس واپس نہیں لیں گی تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا، زرائع نے مزید انکشاف کیا کہ معاملہ کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر انجم خاور کے پی اے کی طر ف سے متاثرہ طالبہ کو 9 منٹس کی کال کے مصدقہ ثبوت بھی سامنے آئے ہیں جس میں پی اے کی طرف سے متاثرہ طالبہ کو دھمکیاں دی گئیں اور درخواست واپس نہ لینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں ہیں ان پورے معاملات نے معاملہ کی سنگینی اور دباؤ کے ذرئعے درخواست کی واپسی کے لیے شدید دباؤ کو آشکار کردیا ہے۔ مزید تفصیلات کے مطابق پمز کے زیر انتظام چلنے والے نرسنگ کالج میں فی میل نرس سٹوڈنٹس کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے منظم گینگ کا انکشاف ہوا تھا، جس کے مطابق گینگ کے سربراہ کالج میں تعینات گریڈ سترہ کے ٹیچر طاہر محمود بتائے جاتے ہیں ‘‘ تم بہت خوبصورت اور سمارٹ ہو۔ مجھ سے دوستی کرلو اور لاہور چلو میرے ساتھ۔ دو دن ہوٹل میں سٹے کریں گے۔ تمھیں امتحانات میں اچھے نمبر دوں گا۔ انکار کرو گی تو فیل کر دوں گا ’’ طالبہ کا درخواست میں طاہر محمود پر الزام۔ زرائع کے مطابق طاہر محمود کو کچھ عرصہ قبل ایف آئے اے کے سائیبر کرائمز ونگ کے تفتیش کاروں نے اس وقت گرفتار کر لیا تھا جب ان پر راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور ٹی ایچ کیو کشمیر میں تعینات تین نرسز نے جنسی حراسگی اور بلیک میلنگ جیسے سنگین الزامات لگائے تھے۔ چار روز حراست میں رہنے کے بعد طاہر محمود کو تحریری معافی نامہ لے کر رہا کیا گیا گینگ کی بدمعاشی و ہٹ دھرمی کا یہ عالم کے نرسنگ کالج کی جانب سے واقع کی انکوائری لیے تشکیل دی جانے والی کمیٹی کے میل و فی میل ممبران نے شکایت درج کرنے والی نرس کو انکوائری بہانے کمرے میں بلا کر کمرہ لاک کر دیا اور اس پر دباؤ ڈالا کہ درخواست واپس لو ورنہ پچھتانہ پڑے گا وہیں طالبہ کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ نہیں رک رہا، وہیں مزید انکشافات کے مطابق طاہر محمود کو کوئی کورس پڑھانے کے لیے نہیں دیا گیا تاہم کورسز ان کی بیوی کے نام پر جاری کیے جاتے تاہم بیوی کی جگہ کورس طاہر محمود ہی پڑھاتے۔ طالبہ نے درخواست سے قبل معاملہ طاہر محمود کی بیوی کے علم میں لایا تاہم انہوں نے بھی طالبہ کو خاموش رہنے کو کہا اب معاملہ تحقیقاتی کمیٹی نے بھی دبا دیا ہے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ معاملہ پر ای ڈی پر بھی مافیاء کا دباؤ ہے کہ رپورٹ کو روکا جائے اور کسی طرح طاہر محمود کو بچایا جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

حکومتِ سندھ کا بڑا فیصلہ، کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار پر پابندیاں ختم

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) حکومتِ سندھ نے کاروباری برادری اور عوام کو بڑا ریلیف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے