Home / آرٹیکل / اخلاقی گراوٹ ،،، آخر وجہ کیا ہے تحریر: محمد جواد بھوجیہ

اخلاقی گراوٹ ،،، آخر وجہ کیا ہے تحریر: محمد جواد بھوجیہ

اخلاقی گراوٹ ،،، آخر وجہ کیا ہے

تحریر: محمد جواد بھوجیہ

ہم لوگ کثرت سے اپنے معاشرے کے اخلاقی بگاڑ پر گفتگو کرتے ہیں اور اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں، مگر یہ گفتگو کرتے ہوئے ہم اکثر یہ فراموش کردیتے ہیں کہ ہم بھی اس قوم اور معاشرے کا حصہ ہیں۔ یہ صورت حال اگر پیدا ہورہی ہے تو ہم اس پر صرف اظہار افسوس کرکے اپنی جان نہیں چھڑا سکتے۔یہ ہماری، مذہبی، قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور کم از کم اپنے دائرے میں غلط رویوں کے خلاف ایک جدو جہد شروع کردیں۔ اس سلسلے میں ہماری ذمہ داری بہت اہم ہے جس کو پورا کرنا ہم پر لازم ہے۔ صورت حال کا ایک مکمل تجزیہ کرکے ہمیں عوام الناس کے اندر اس شعور کو اجاگر کرنا ہے کہ کہ مرض کیا ہے، اسباب کیا ہیں اور علاج کیا ہے۔ ہما را معاشرہ جس نہج پر آج پہنچ چکا ہے اگر اس کو ایک بیمار معاشرہ کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ دنیا کے صحت مند معاشرے آگے بڑھتے ہیں دنیا کے اندر ہونے والی تبدیلی کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر اپناتے ہیں۔ دنیا میں جو معاشرے یا سماج جمود کا شکار ہوئے وہ معاشرے دراصل وہ معاشرے ہیں جنہوں نے دنیا کے ساتھ بدلنے کے ڈھنگ کو چھوڑ دیا اور پیچھے رہ گئے جس معاشرے میں ارتقا اور ترقی کا عمل رک جا تا ہے تو اس معاشرے میں مختلف قسم کے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ لوگ مختلف سوچوں افکاروں اور دھڑوں میں بٹ جاتے ہیں اس معاشرے کا طاقتور طبقہ اپنی سوچ کو دوسروں پر حاوی کرنے کے لیے مختلف جائز ناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے جو یقینی طور پر معاشرے میں سدھار کی بجائے دراڑ کو جنم دیتا ہے، معاشرہ مزید تقسیم ہوجاتا ہے معاشرے کی ترقی کا عمل رک جاتا ہے اور معاشرے کی ساری طاقت منفی اعمال میں صرف ہو جاتی ہے، فضول بے معنی خیالات منفی سوچ کے فروغ کا سبب بنتے ہیں، اس طرح معاشرے میں کئی برائیاں جنم لیتی ہیں جن میں عدم برداشت، فسٹریشن، گھٹن جن کا اختتام دہشت گردی جیسے رویوں پر ہوتا ہے۔ دہشت گردی صرف بم دھماکے کرنے انصانوں کو ناحق قتل کرنے کا نام تو نہیں اس کی کئی اشکال ہیں جو آج ہمارے معاشرے میں موجود ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کرنا بھی دہشت گردی ہے، اپنے حق کی بات نہ کرنے دینا بھی دہشت گردی ہے، سماجی تعلقات ختم کرنا بھی اسی کے ایک قسم ہے جس کو ہم بہت کم تصور میں لاتے ہیں لیکن یہ سب کی ایک جڑ ہے، جہاں سے تمام مسائل جنم لیتے ہیں اور ان کی پرورش ہوتی ہے، ہمارے معاشرے کا کوئی بھی فرد آج اپنی سوچ میں آزاد نہیں ہے۔ اسے اپنی سوچ پر عمل کے لیے کئی خوفناک مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، سب سے بڑا خوف خود سماج ہے۔ لوگ کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے سوچتے ہیں میرے اس عمل پر سماج، لوگ کیا کہیں گے معاشرے میں کورٹیسی کا تصور تک ختم ہوگیا ہے، کوئی کسی کو برداشت کرنے تک کو تیار نہیں۔ ہمارے معاشروں میں باہمی اعتماد، باہمی احترام کا عنصر ناپید ہو چکا ہے اگر آج کوئی انسان اچھا کام کرتا ہے تو پھر بھی معاشرے اس میں کوئی نہ کوئی عیب ضرور نکالتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں لوگ آپ کے زاتی افعال میں مداخلت اپنا حق تصور کریں گے، یہ تمام علامات ہمارے بیمار معاشرے میں بڑے زور کے ساتھ بھرپور انداز میں موجود ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور ان عوامل کا جائزہ لینا ہوگا کہ بات یہاں تک کیسے پہنچی۔ ہمیں اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے بنیاد کو سمجھنا ہوگا روزمرہ کے استعمال میں ہم تہذیب اور تمدن کو یکجا شمار کرتے ہیں تاہم لغوی اور اسطلاحی معنی میں یہ دونوں علیحدہ چیزیں ہیں۔

ہماری زندگی کا ہر عمل کسی فلسفہ کا نتیجہ شمار کیا جاتا ہے پہلے ہم کسی بھی چیز کو سوچتے ہیں پھر اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں تہذیب نام ہے اس فکر، سوچ اور خیالات کا جن کے تحت ہم کسی فعل کے متعلق ارداہ کرتے ہیں اس سوچ کے تحت ہم جو اعمال یا افعال کرتے ہیں اس کو تمدن کہا جاتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں ایک دو سرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کسی بھی تہذیب کا ماخذ ادب، فنون لطیفہ، معاشرتی روایات ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے اگر بغو ر جائزہ لیا جا ئے تو معاشرتی روایات بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ معاشرتی ادارے معاشرتی روایات کے علمبردار ہوتے ہیں۔ ان میں تین اہم ترین چیزیں آپ کے پیش نظر ہیں سب سے پہلا ،، انسان کا گھر ،، دوسرا،، سکول ،، تیسرا ،، ہما را ماحول جو گھر اور سکول کے باہر ہمارے بچوں کو میسر ہوتا ہے۔ گھر کا کردار سب سے اہم ہے، کوئی بھی بچہ جب بولنے لگتا ہے تو سب سے پہلے وہی الفاظ دہراتا ہے جو اس کے منہ میں ڈالے جائیں گے گویا بچے کی فکری تعمیر کی سب سے اولین اور اہم ترین جگہ گھر ہے۔ گھر میں ماں باپ بہن بھائی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے موجودہ بیمار معاشرے کی بیماری کا آغاز بھی گھر سے ہوا ہے، جب بچوں کی تربیت کے عمل کو والدین نے دادا دادی بھائی بہن رشتہ داروں پر چھوڑ دیا غلطی کرنے پر ماں باپ نے کہا ابھی بچہ ہے کوئی بات نہیں بڑا ہوجائے گا تو سب ٹھیک ہوجائے گا بچوں کو اعلی ترین لباس، مہنگی چیزیں زندگی کی ہر آسائش ماں باپ بچوں کو پہنچاتے ہیں مگر وقت نہیں دیتے، یہاں سے بچے کی بگاڑ کا عمل شروع ہوتا ہے ،دوسری جگہ تعلیمی ادارہ یا سکول ہیں جہاں والدین کے مطابق قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے مگر والدین اس حوالے سے تھوڑی بھی فکر تگو دا نہیں کرتے کہ ہمارے بچے کی فکری تعمیر کس طرف جارہی ہے ، یوں بچے گھر کی بہترین تربیت سے یکسر محروم ہیں وہیں سارا کا سارہ انحصار سکول پر کرتے ہیں۔

سکولوں کا حال آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے وہ بچوں کی فکری تعمیر کیا خاک کرے گا جہاں ڈانٹے پر اساتذہ کی چھٹی کر دی جاتی ہے، ادھر استاد نے بچے کی باز پرس شروع کی اگلے ہی روز استاد صاحب کی طلبی ہوتی ہے اس معاشرے میں فکری تعمیر کیا ہوگی جہاں استاد ا یک تنخواہ دار مزدور تصور ہو۔ استاد کی اہمیت جس معاشرے میں اس حد تک ہو وہاں تربیت سازی کا عمل ماند پڑ جاتا ہے۔

سکولوں میں اساتذہ اب انتظامیہ کی پالیسیوں اور نوکری بچانے کے چکر میں اس اہم ترین معاملہ کو دیکھ تک نہیں سکتے سکولوں کو بھاری فیسیں چاہیں اور اساتذہ کو عزت کیساتھ تنخواہ، میرا خود بھی اس حوالے سے بطور ٹیچر تجربہ انتہائی خوفناک ہے جس کو بیان کرنا مناسب نہیں۔ تعلیمی ادارے کے مالکان اساتذہ کی بجائے طلبا کی قدر کرتے ہیں ادھر چار طلبا نے شکایت کی ادھر استاد صاحب فارغ ہمارا نظام تعلیم بیمار ہے۔ جس میں سوچ کو بدلنے کا تصور ہی موجود نہیں جو تعلیم کی بنیاد تصور ہوتی ہے۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نصاب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور وہیں دوسری طرف نصاب میں ہماری اخلاقیات کی تعمیر کے حوالے سے اس سطح کا مواد موجود نہیں جس سے تربیت سازی کے مقاصد کی تکمیل ہو سکے، ماضی میں بچوں کو غیر نصابی سرگرمیوں میں اس طرح کی ایکٹیویٹز کروائی جاتیں تھیں جس سے بچوں کی ذہن سازی ہو مگر اب سکولوں میں بزم ادب کے نام تک سے بچے واقف نہیں

(جاری ہے )

About admin

یہ بھی پڑھیں

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے