کراچی، (رپورٹ ذیشان حسین) اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف سندھ (سجاس) کے عہدیداران اور تمام ممبران نے اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، سینئر اسپورٹس جرنلسٹ، انٹرنیشنل ہاکی کمنٹیٹر، وینس ٹی کے اینکر پرسن اور کراچی پریس کلب کے سینئر ممبر ریاض الدین صدیقی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
جمعہ کے روز ریاض الدین صدیقی نماز کی ادائیگی کے لیے پی سی سی ایچ ایس بلاک 6 میں واقع جامع مسجد مدینہ گئے تھے کہ اس دوران نامعلوم ملزمان نے مسجد کے باہر کھڑی ان کی گاڑی کا شیشہ توڑ کر لیپ ٹاپ، قیمتی سامان اور اہم دستاویزات چرا لیں۔ واقعے کی رپورٹ متعلقہ تھانہ ٹیپو سلطان میں درج کرا دی گئی ہے۔
سجاس کے سیکریٹری شاہد عثمان ساٹی نے اس واقعے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پولیس ایک جانب شہر میں اسٹریٹ کرائمز میں کمی کے دعوے کرتی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دن دہاڑے صحافیوں کی گاڑیاں توڑ کر سامان چرا لیا جاتا ہے، جس سے واضح ہے کہ صحافیوں سمیت شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہیں اور وہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
شاہد ساٹی نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں فیروز آباد تھانے کی حدود میں بھی سجاس کے ممبر اور سینئر صحافی زاہد غفار کو مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر لوٹ لیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاض الدین صدیقی اور زاہد غفار سے لوٹنے والے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، لوٹا گیا اور چوری شدہ سامان واپس دلایا جائے اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے تاکہ صحافی برادری کو انصاف مل سکے۔