کراچی، (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹاؤن پلاننگ سندھ، سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے جاری ہیں اور ایک سال میں شہر کا نقشہ بدل جائے گا۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (CLIC) کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں، خاص طور پر ایم کیو ایم، اکثر غیر ضروری شور مچاتی ہیں، لیکن حکومت عملی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ناصر شاہ نے کہا کہ کراچی کی بہتری کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کو دعوت دی گئی ہے کہ سب مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا، "کراچی میں ایم کیو ایم کی سیاست کا اختتام ہو چکا ہے، اسی لیے وہ اکثر شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ شہر میں گھروں سے کچرا اٹھانا ایک مستقل سلسلہ ہونا چاہیے اور بعض علاقوں سے موصول شکایات کو حل کیا جا رہا ہے۔ سندھ میں ڈویژنل بورڈز کو فعال کیا جا رہا ہے اور کئی نئے اسکیمیں بھی شروع ہونے والی ہیں۔
ٹریفک نظم و نسق کے حوالے سے ناصر شاہ نے کہا کہ ای چالان سسٹم شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لیے ہے تاکہ حادثات کم ہوں۔ انہوں نے تعلیم کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ پہلے آئی بی اے کے ٹیسٹ میں حصہ لینے والوں کی عمر کی حد 43 سال تھی اور وہ اپنی اہلیت برقرار رکھیں گے۔
وزیر نے مزید کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ "اگر ایم کیو ایم کو واقعی لوکل گورنمنٹ کی فکر ہوتی، تو وہ بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار نہ کرتے۔” انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بھتے کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اس حوالے سے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں آج کراچی میں قوانین کی بہتر عمل درآمد اور انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور حکومت کا ہدف شہر کو جرائم سے پاک بنانا ہے۔