کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے باغِ جناح کراچی میں منعقدہ سیاسی جلسے کی کوریج کے دوران صحافیوں پر تشدد اور میڈیا ہاؤسز کی ڈی ایس این جی گاڑیوں اور آلات میں توڑ پھوڑ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صدر کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نصراللہ چوہدری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورۂ کراچی کے موقع پر باغِ جناح میں منعقدہ جلسے کے دوران سیاسی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں فرائض کی انجام دہی میں مصروف میڈیا نمائندے تشدد کا نشانہ بنے۔ اس دوران مختلف میڈیا اداروں کی ڈی ایس این جی گاڑیوں اور قیمتی آلات کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
کے یو جے (دستور) کے سیکریٹری ریحان خان چشتی نے بتایا کہ مشتعل عناصر نے ایک خاتون رپورٹر سمیت چار کیمرہ مینوں اور ایک ڈی ایس این جی آپریٹر پر تشدد کیا، جو نہ صرف صحافتی اقدار بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) نے پولیس اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ یونین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ میڈیا ہاؤسز کی ڈی ایس این جی گاڑیوں، کیمروں اور دیگر قیمتی آلات کو پہنچنے والے مالی نقصان کا فوری اور مکمل ازالہ یقینی بنایا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافی غیر جانبداری کے ساتھ مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور کسی بھی فریق کی جانب سے انہیں نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔