تازہ ترین
Home / آرٹیکل / بیگم نے کیا انٹرویو ہمارا : ۔۔۔ انتخاب : خالد قیوم تنولی

بیگم نے کیا انٹرویو ہمارا : ۔۔۔ انتخاب : خالد قیوم تنولی

سوال: ”آپ کا نام؟“
جواب: ”آپ نہیں جانتیں؟ واقعی؟۔۔۔ نہایت افسوس ھے۔“
س: ”یعنی آپ کا پیدائشی اور قلمی نام؟“
ج: ”اب آپ کو یہ بھی بتانا پڑے گا۔ جانتی تو ہیں آپ۔ سچ کہیں تو آپ کے اس سوال سے بہت تکلیف ہوئی ہمیں۔“
س: ”چلیں رہنے دیجیے۔ اگر اپنے چاہنے والوں کو آپ نہیں بتانا چاہتے تو خیر ھے۔ اچھا یہ بتائیے کہ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟“
ج: ”یہ سوال بھی ہمیں دکھ دے رہا ھے۔ آپ جانتی تو ہیں پھر بھی۔۔۔ افسوس!“
س: ”دیکھیے! میں ذاتی شوق کے تحت نہیں پوچھ رہی بلکہ ان لوگوں کے لیے پوچھ رہی ہوں جو آپ کے بارے جاننا چاہتے ہیں۔۔۔ چلیے اسے بھی رہنے دیجیے۔ یہ بتائیے کہ لکھنے کا شوق کب پیدا ہوا؟ اور یہ بھی کہ بنیادی طور پر آپ کیا ہیں؟“
ج: ”شوق کو فی الحال رہنے دیجیے۔ لکھنے پر ہمیں مجبور کیا گیا تھا۔ اور اس کا کریڈٹ ہمارے پرائمری مدرسے کے معلم کو حاصل ھے۔ بنیادی طور پر ہم انسان ہی ہیں۔ حالات نے البتہ چیزے دیگر بنا رکھا ھے۔ آپ بخوبی جانتی ہیں۔ افسوس ھے۔“
س: ”آپ نے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا یا نثر سے؟“
ج: ”یعنی آپ واقعی نہیں جانتیں۔ شاعر تو خیر ہر انسان ہوتا ہی ھے۔ مطلب جب کوئی آپ کو اہمیت نہ دے رہا ہو تو شاعر وہی کہلاتا ہے۔ بچہ جب تک قافیہ و ردیف کا با آواز بلند سہارا نہ لے تو ماں بھی دودھ نہیں پلاتی۔ ہم نے پہلا شعر زمانہ شیر خواری میں کہا تھا اور اس کی خوب دہرائی کی ورنہ ڈھائی برس تک ڈبے کا دودھ پینا پڑتا۔ عہد جاہلیت کا وہ سارا کلام اب نسیاں کی نذر ہو چکا۔ ویسے بھی وہ غوں غاں قسم کی شاعری تھی جسے کسی نے درخور اعتنا نہیں جانا لہذا وہ خاندان و برادری کے بزرگوں کے شور و غوغے کی بھینٹ چڑھ گئے۔ عالم شعور میں دو چار مصرعے سیدھے کرنے کی کاوش کی تھی مگر ناقدری نے ارمانوں پر بلکہ ذوق پر اوس گرا دی۔ مطلب کسی نے سنجیدہ نہیں لیا۔

مزید پڑھیں: پروفیسر حافظ ڈاکٹر غلام محی الدین نقشبندی مجددی ۔۔۔ تحریر : طلحہ احمد بابر

ہاں نثر کی بات الگ ھے۔“
س: ”آپ کہانی کاری کی طرف کب آئے؟“
ج: ”اگر کہانی کاری سے مراد لمبی لمبی چھوڑنے سے ہے۔۔۔۔۔ تو ہماری والدہ صاحبہ کے بقول جب ہم سوداسلف کی خریداری کا حساب کتاب دیتے ہوئے اِدھر اُدھر کی ہانکنے اور بقایا رقم کی خردبرد بارے لایعنی جواز گھڑنے لگتے تو وہ پاپوش مبارک تھام کر فرماتیں، کہانیاں مت سنا، سدھی طرحاں دس۔“
س: ”پہلی کہانی کب لکھی؟“
ج: ”چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے تو لاابالی پن اور مدرسی امور سے عدم دلچسپی کے باعث جب مسلسل دس دن غیر حاضر رہنے کے بعد ہیڈماسٹر کے نام درخواست لکھی تو غیرحاضری کے اسباب مکمل جزئیات سمیت لکھے تھے۔ وہی پہلی طویل مختصر کہانی تھی۔ نتیجہ مگر اس کا قطعاً حوصلہ افزا نہ نکلا۔ بہت پھینٹی چڑھی تھی۔ ہیڈماسٹر کو ہماری ادبی ہنرکاری پر مطلق اعتبار نہیں آیا۔ ویسے بد ذوق لوگ اب بھی ہر جگہ وافر پائے جاتے ہیں۔“
س: ”کہاں کہاں چھپے ہیں؟“
ج: ”کوئی ایک جگہ ہو تو بتائیں۔ ک?ی بار ک?ی جگہوں میں چُھپے ہیں۔ شرارتی تو ہم بہت رہے ہیں۔“
س: ”میرا مطلب ھے کہانیاں آپ کی کون کون سے معروف جرائد میں چَھپی ہیں؟“
ج: ”اوہ اچھا اچھا، یوں کہیں نا۔ شروع شروع میں تو جہاں جہاں بھیجیں وہاں نہیں چھپیں، بعد میں جب التباسی بیانیے پر گرفت خوب مضبوط ہو گئی اور تعلقات بھی استوار ہو گئے۔تو پھر جہاں جہاں بھی بھیجیں وہاں سے چھپ کر ہی آتی رہیں۔ دراصل ہم بے شمار ادبی رسائل کے مستقل خریدار رہے ہیں تو مدیران کرام ہماری ہر اوٹ پٹانگ کو سرفہرست ترجیح دیتے رہے ہیں۔“
س: ”اگر آپ ادیب نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟“
ج: ”یہی کہ ایک بہتر انسان ہوتے۔ یہی سننا چاہتی ہیں نا آپ؟ ہانڈی جلنے کی بُو آ رہی ھے۔ اب جائیے۔ فوراً۔۔۔! اور شانی کو ذرا ادھر بھیجیے۔ رس پاپے منگوانے ہیں۔“

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

After contacting Malaysia’s Foreign Minister, Mohammad Hassan, Rana Basharat Ali Khan halted the deportation of a worker from Malaysia

Title: International Human Rights Movement’s Action: Prevention of Deportation of Worker from Malaysia The International …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے