کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) متحدہ اپوزیشن کا سندھ کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف بھرپور احتجاج، اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کی قیادت میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان، اراکین سندھ اسمبلی، بلاول غفار، سعید احمد آفریدی، راجا اظہر، رابستان خان، جمال صدیقی، شہزاد قریشی، شاہنواز جدون، عدیل احمد، محمد علی جی جی، ادیبا حسن سمیت دیگر اراکین بھی شامل تھے۔ سندھ اسمبلی میں قراداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان صوبائی اسمبلی کا مظاہرہ، قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے ارکان کی جانب سے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ کو لکھا گیا خط وزیر اعلیٰ ہاؤس کی دیوار پر آویزاں کر دیا گیا، کھلے خط میں تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے، ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، خودکشی (قتل) و دیگر کیسز فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
تفصیل کے مطابق قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران سندھ کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے حوالے سے قرارداد جمع کروائی اور ایوان میں اس سنگین صورتحال پر بحث کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کیا گیا۔ قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں ہم جوائنٹ اپوزیشن کے اراکین سندھ کے تعلیمی اداروں میں طالبات کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، ہراسمنٹ، خودکشی (قتل) و دیگر کیسز پر جمعہ سے سندھ اسمبلی کے معزز ایوان میں بات کرنا چاہ رہے تھے اس سلسلے میں ہم نے ایک قرارداد بھی سندھ اسمبلی میں جمع کروائی ہے لیکن معزز ایوان میں ہمیں بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ کیوں کہ سندھ کی بیٹیوں کی عزتوں اور ان کے خون کے چھینٹے سندھ حکومت کے دامن پر آرہے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ اور اس کابینہ کے اراکین کی خاموشی ذمہ داران کی سرپرستی کا اشارہ دے رہی ہے۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ کے مختلف شہروں بالخصوص تعلیمی اداروں میں سندھ کی بیٹیوں کے ساتھ جنسی زیادتی و ہراسمنٹ کے کیسز رونما ہو رہے ہیں، کچھ روز قبل نوکوٹ میں دو لڑکیوں کنول اور فضا کے ساتھ ہونے والے ظلم و بربیت کا واقعہ سامنے آیا جس میں 20 سے زائد افراد نے بچیوں سے اجتماعی زیادتی کی پولیس اور سیاسی دباؤ پر کیس کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی، پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نوابشاہ کی طالبہ پروین رند کو ہراساں کرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جس میں کالج کے سینئر ملازم کی جانب سے ہراساں کیا جارہا تھا اور ڈاکٹر پروین رند انصاف کے لیے ننگے پاؤں احتجاج کرنے مجبور ہوگئی۔
آئی بی اے سکھر کی طالبہ بختاور سومرو کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہراسمنٹ کا نشانہ بنایا گیا جو ابھی تک انصاف کے لئے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے، جبکہ سجاول سے تعلق رکھنے والی سندھ یونیورسٹی کی طالباء الماس بھان کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی جس سے تنگ آکر بچی نے پڑھائی آدھے میں چھوڑ دی جھانگارا میں دسویں جماعت کی طالباء تانیہ خاصخیلی کو وڈیرے کے بیٹے نے گولیاں مار کر قتل کردیا نائلہ رند کی لاش بھی سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ملی، ٹھٹھہ میں گاؤں غلام اللہ چانڈیو میں 14 سالہ آمنہ چانڈیو کی لاش کو قبر سے نکال کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا کچھ عرصہ قبل لاڑکانہ کے ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کماری، چانڈکا میڈیکل کالج کی طالبہ ڈاکٹر نوشین شاہ، کے افسوس ناک واقعہ کو خودکشی کا رنگ دیا گیا تھا ڈاکٹر نوشین شاہ اور نمرتا کماری کے کپڑوں سے ملنے والے ڈی این اے ایک ہی شخص کے ہیں ان واقعات کے پیش نظر کئی بچیاں خوف سے پڑھائی چھوڑ کر گھر بیٹھ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا وفاقی حکومت کی جانب سے زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد قومی اسمبلی سے منظور کی گئی جس کی پیپلز پارٹی کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو لکھے گئے خط میں اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان اندوہناک واقعات میں ملوث ملزمان کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے غفلت کے مرتکب پولیس، صحت اور پراسیکیوشن اور متعلقہ اداروں کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام اور فوری ازالے کا کوئی ٹھوس طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ سندھ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہماری بیٹیوں کی عزت و آبرو اور مستقبل محفوظ رہیں۔
حلیم عادل شیخ نے مزید کہا بحیثیت لیڈر آف ہاؤس اور وزیراعلیٰ سندھ یہ مراد علی شاہ کی ذمہ داری میں شامل ہے کہ سندھ کے تعلیمی داروں میں طالبات کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا فوری طور پر ازالہ کریں اور طالبات کو تعلیمی داروں میں مکمل تحفظ فراہم کریں تاکہ ہماری بیٹیاں بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ اور پی پی قیادت ان معاملات پر خاموشی برقرار رکھتی ہیں ہم یہ سمجھیں گے کہ وہ بھی ان جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔
پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے کہا ان کے قائد نے انہیں مظلوموں کے لئے کھڑے ہونے کا درس دیا ہے اور اگر انہیں بولنے نہیں دیا گیا تو اسمبلی وزیر اعلی ہاؤس کے باہر لگائی جائے گی۔