تازہ ترین
Home / Home / آج کل کے مسلمان ۔۔۔ تحریر : محمد نسیم رنزوریار

آج کل کے مسلمان ۔۔۔ تحریر : محمد نسیم رنزوریار

قارئین کرام ۔۔ آج سے20سال پہلے جب گاؤں میں کوئی فوتگی ہوتی تھی تو ہمارے ماں باپ دادا دادی گھر کے چولہے نہیں جلاتے تھے۔ ٹی وی ٹیپ ریکارڈر کو اٹھا کر صندوق میں ڈال دیتے تھے۔پورے گاؤں میں سناٹا سا چھا جاتا تھا ایسے محسوس ہوتا تھا کہ مرنے والے والے کے ساتھ ساتھ پورے کا پورہ گاؤں بھی مرگیا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہوتی تھی۔ قبرکشائی کیلئے پورے گاؤں کےنوجوان اکھٹے ہوجاتے تھے۔ اگر میت کو رات رکھنا ہوتا تو ہر رنگ ونسل برداری سوگوار خاندان کیساتھ رات گزارتے۔شادی بیاہ کی ڈیٹ جو مقرر ہوتی تھی اسے ایک مہینہ آگے کردیا جاتا تھا لیکن آج کے دور کی اگر فوتگی کا اعلان ہوتا ہے تو آج اکثر لوگ انا اللہ وانا الیہ راجعون تک نہیں پڑھتے چولہا نہ جلانے کی تو دور کی بات گھر میں میت پڑی ہوتی ہے اور ساتھ والے گھر میں ٹی وی ڈرامے چل رہے ہوتے ہیں۔ نوجوان کانوں میں ہیڈ فون لگا کر میوزک کا لظف اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ رات کو سوگوار خاندان کو یہ کہہ کر چلتے بنتے ہیں کہ گھر پر بچےّ اکیلے ہیں زمانہ ٹھیک نہیں ہیں۔ پیسے دے کر قبر کشائی کاروائی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دینے والی چیز میت گھر پڑی ہوتی ہے اور شادی والا گھر سوگوار خاندان کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ اگر آپ اجازت دے تو دفنانے کے بعد ہم ڈھول بینڈ باجے بجالے کیونکہ ہم نے بچے کی شادی کون سا بار بار کرنی ہے اور اتنی ڈھیٹ پن اور سادگی سے کہتے ہیں کہ بندہ چاہ کر بھی کیوں منع کرے گا۔ پورے گاؤں پر کیا سناٹا اب چھانا ہے محلے داروں کو نہیں پتہ کہ کون مراہے ۔کس کو غلط بولے اور کسی کی غلطی ہےجب سے پیسہ آیا ہے رشتے بس بناوٹ کے رہ گئے ہیں ٹائم ہی نہیں کسی کے پاس دور کے رشتے اوردوست پاس آگے اور پاس کے رشتے بہت دور چلے گئے ہیں نفسا نفسی کا عالم ہے۔ غیبت چوری کالا جادو عام ہوگیا ہے۔ نماز سے دوری اور ہم صرف نماز جمعہ ادا کرکے جنت کے حقدار بن جاتے ہیں اور پریشانی اس بات کی ہے کہ میں بھی اس معاشرے کا حصہّ دار ہوں اور جو لوگ احباب یہ تحریر پڑھے گے وہ بھی اس معاشرے میں شامل ہیں۔ ہم بے حس ہوگئے ہیں اور خاموش بنے بیھٹے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم آج اچھے لوگوں پر تو تنقید کرتے ہیں لیکن ان کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔سود کی تجارت کھلم کھلا کرتے ہیں۔ قتل وغارت اور غنڈہ گردی کھلے عام کرتے ہیں۔ مظلوموں کی حقوق پر ڈاکہ ڈال کر قبضہ کرتے ہیں۔ بیوہ عورتوں کیساتھ ظلم اور یتیموں کیساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں۔ معاشرے میں منشیات فروشی برائیاں پھلاتے وغیرہ جیسےجرائم میں ملوث اور فروغ دیتے ہیں۔ ہم ایسی لوگوں کی جرموں اور زیادتوں پر آندھے بہرے بنے کر صرف تماشہ دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف ہم امن مساوات حقوق العباد اور اچھے نام پانے کی مسلمان ہونے کی بلند دعوے کرتے ہیں آپ ذرا دیکھیں جو ماحول آج بنا ہے کیا یہ کوئی اسلام مذھب اس طرح کے معاشرے کی اجازت دیتی ہے کہ جس میں طاقت اور دولت کے زور سے ہر برے کام کو جائز کا نام دیتے ہیں آج دیکھیں جہاں بھی کوئی مشر سیاسی لیڈر یاکوئی قبائلی رہنماء ہوں سب کے پیچھے سکیورٹی گاڑیوں کی قطاریں اور اسلحے سے لیس گارڈز نظر آتے ہیں جس ملک و قوم کے لیڈرز خود قتل ڈاکہ زنی اور شراب نوشی جیسی ناسور میں مبتلاہوں تو وہ عوام کے کیا بھلا کرسکتے ہیں تعجیب کی بات ہے کہ آج کلاشنکوف کلچر اور سکیورٹی نظام سرکاری آفیسرز کے بجائے عوام عوامی اشخاص کیساتھ زیادہ الرٹ اور چوکس نظر آتے ہیں مشاہدے کی بات ہے کہ ان تمام مشراں کے پڑوس بھوک اور پیاس کے علاوہ زندگی کے تمام تر سہولیات سے محروم ہے تو وہ پرائیوں کیلئے کیا خدمات سرانجام دے سکتاہے۔ہم ایک طرف انسانی معاشرے کی پایہ تکمیل کی بات کرتے ہیں اور اسکے علاوہ ایک سچہ مسلمان کو بلند بانگ کی دعوے کرتے ہیں دوسری طرف قتل وغارت رشوت گری قومیت لسانیت اور معمولی کونسلری کے سیٹ پر بڑے سے بڑے جنگ جھگڑے کرتے ہیں اور اپنے اثروسوخ کو فروغ دینے کیلئے کالے شیشے اسلحے سے لیس گارڈز اور گاڑیوں کی لمبے قطاروں سے غریب اور بے بس عوام پر دباؤ ڈالتے ہی محکوم بنا کر انکے زندگی کے حقوق ہڑپ کردیتے ہیں۔ بڑے تو بڑے کیساتھ بڑی حد تک تعاون کرتے ہیں مگر غریب عوام کیساتھ تعاون کرنے والے کوئی نہیں ہیں آپ سوچ کرلیں کہ آج کل کے مسلمان کن کن جرائم میں ملوث نہیں ہے انسان کی قتل سے لیکر معصوم پرندوں کی شکار تک مگر پھر بھی اسکا بھوک نہیں بجتا ہے آخر کب تک ہم مسلمان وقت کے جرائم میں پیٹ پالنے کی تصور کرتے رہینگے بالا ذکر شدہ عوامل آج کل کے مسلمان اور معاشرے کا ایک بدنماء تصویر ہے۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے