کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ بہتر طور پر انتظامی امور چلانے کے لئے صوبوں کی لکیروں کو تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تمام صوبے ڈویژن کی سطح پر بنائے جائیں۔ زبان، قومیت یا علاقائیت کی بنیاد پر صوبوں کا قیام ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔ ہر طرف صوبوں کی بات ہوگی جس سے ملک میں انارکی پھیلے گی۔ اصل حل انتظامی بنیادوں پر صوبوں کا قیام ہے۔ اس سے وفاق مضبوط ہوگا اور علاقائی فرسٹریشن میں کمی آئے گی۔ اٹھارویں ترمیم نے جس طرح صوبوں کو خود مختاری دی ہے بالکل اسی طرح اگر ضرورت پڑے تو انیسویں ترمیم بھی کی جائے تاکہ شہروں کو بھی خود مختاری مل سکے۔ چھوٹے صوبے بن گئے تو ان میں ترقی کے لئے مسابقت کی دوڑ شروع ہوجائے گی جس سے ملک ترقی کرے گا۔ چھوٹے صوبے ریاست کو بلیک کرنے والے سیاستدانوں سے نجات کا ذریعہ بھی بنیں گے۔ ملک کے سٹیک ہولڈرز مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ نئے صوبے قائم کرنے کی بجائے صدارتی نظام کی باتیں بدترین سیاسی مفاد پرستی ہے۔
جب زبان یا نسل کی بنیاد پر صوبوں کا مطالبہ یا قیام ہوتا ہے تو عصبیت کو مزید ہوا ملتی ہے لیکن اگر انتظامی ضرورت کے تحت یہ کام کر دیا جائے تو مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ خطوں کی بنیاد پر صوبے ماضی کی ضرورت تھی جب آبادی کم تھی اور ڈومین بڑی تھی۔ آبادی کے دباؤ جدید ذرائع کی موجودگی اور ڈومین چھوٹی ہونے کی وجہ سے علاقائی پہچان کی بنیاد پر صوبے بنانے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ انتظامی بنیادوں پر یونٹ بننے چاہئیں۔ بہت سے شہروں کے لوگوں کو انصاف کے حصول اور دیگر سرکاری سہولیات سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے دور دراز کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ عوام کی سہولیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چھوٹے صوبوں کے قیام کے لئے حکومت کو کمیشن تشکیل دینا چاہئے جو عوام کی آرا کو بھی ملحوظ خاطر رکھے۔ سیاسی پارٹیوں کو نکمے وزرا کو ٹھکانے لگانے میں بھی آسانی رہے گی۔ اس وقت پاکستان کے لوگوں کو نظام کی خرابی کی وجہ سے روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبوں میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کو مقامی طور پر روزگار مل سکے گا۔
پاسبان اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین اور پی کیو آئی کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ پاکستان کو بچانے کے لئے بڑے فیصلے کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ورنہ درندہ صفت بین الااقوامی اور مقامی مافیاز پاکستان کو تر نوالہ بنا کر نگل جائیں گے۔ ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے لیکن انتظامی یونٹس میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ صوبوں کا حجم بڑا ہونے کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ آبادی بڑھنے کی وجہ سے حقوق کی فراہمی میں تاخیر ہورہی ہے، مختلف کمیونٹیز میں بے چینی پیدا ہونا فطری امر ہے۔ فوری حل تلاش نا کیا گیا تو اس میں مزید اضافہ ہوگا اور باہمی کشمکش بڑھے گی۔ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کئے جائیں۔ عمل درآمد کے لئے پہلے سے موجود ڈویژنز کو صوبائی انتظامی یونٹ بنایا جائے۔ مضبوط وفاق کے لئے صوبوں کا چھوٹا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ چھوٹے صوبوں سے وفاق مضبوط ہوگا کوئی صوبہ موجودہ حالات کی طرح وفاق کو چیلنج نہیں کرسکے گا۔ بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے چلا گیا ہے۔
انتظامی معاملات بہتر بنانا وقت کہ اہم ضرورت ہے۔ ملک میں انتظامی یونٹس قائم کرنے کی بجائے صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑ دیا گیا اگر مزید صوبے بنا دئے جائیں تو صدارتی نظام کا پیش کیا گیا جواز دم توڑ جائے گا۔ پاکستان میں موجود تمام ڈویژن جو کہ تیس یا پینتیس کی تعداد میں ہیں، انھیں صوبوں کا درجہ دیا جائے۔ پاکستان میں فوری طور پر پراونسز کمیشن بنایا جائے اور عوام کی رائے کو ملحوظ خاطر رکھ کر نئے انتظامی صوبوں کے قیام کا اعلان کیا جائے۔ عوام کو پارلیمانی اور صدارتی نظام میں الجھانے کی بجائے کرپشن سے پاک نظام بنایا جائے تاکہ ملک صحیح سمت میں گامزن ہو سکے۔