تازہ ترین
Home / اہم خبریں / وزیراعظم ڈاکٹر عافیہ کو وطن لانے کے معاملات اپنے ہاتھوں میں لیں۔ ترجمان عافیہ موومنٹ

وزیراعظم ڈاکٹر عافیہ کو وطن لانے کے معاملات اپنے ہاتھوں میں لیں۔ ترجمان عافیہ موومنٹ

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) عافیہ موومنٹ کے ترجمان محمد ایوب نے ایک مرتبہ پھر ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی ان خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ تو قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرنے کے لئے تیار ہے مگر ان کی وطن واپسی میں رکاوٹ پاکستان کے اندر سے ہے واضح رہے کہ یہ خبر اس سے قبل عالمی میڈیا میں بھی آچکی ہے۔ عالمی سطح پر معروف برطانوی صحافی ایوون ریڈلے بھی ایک سے زائد مرتبہ اس بات کی نشاندہی کرچکی ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی میں رکاوٹ امریکہ نہیں بلکہ خود پاکستان ہے۔ عافیہ موومنٹ میڈیا انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے سینیٹر مشتاق احمد خان اور سینیٹر عبدالقادر مندوخیل کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ سینیٹ میں اٹھانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سینیٹ آف پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی کے لئے پاس ہونے والی قراداد حکومت پاکستان کی جانب سے عملدرآمد کی منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی عافیہ کا معاملہ پارلیمنٹ یا ذرائع ابلاغ میں زیر بحث آتا ہے تو حکومتی وزراء بیانات کی حد تک متحرک ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے سینیٹ میں بیان دیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ سے معافی کی پٹیشن پر دستخط کروا لئے گئے ہیں جبکہ گذشتہ سال 2020 ء میں بھی حکومت کی جانب سے اسی طرح کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ آج بھی امریکی جیل میں قید ہیں اور یہ ان کی ”18 ویں عیدالاضحی“ قید تنہائی میں گذرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی علیل ہیں اور ان کی صحت دن بدن روبہ زوال ہے۔ وہ بسترعلالت پر اپنی معصوم اور بے گناہ بیٹی عافیہ کو بار بار یاد کر رہی ہیں، عیدالاضحی کے ایام جیسے جیسے نزدیک آرہے ہیں ان کی بے چینی و بے قراری بڑھتی جارہی ہے۔ عافیہ موومنٹ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزارت خارجہ کے متعلقہ افسران کو ارسال کردہ خطوط میں استدعا کی گئی ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی ان کی والدہ اور بچوں سے ٹیلی فون یا ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرائی جائے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی اس خبر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کام کرنے والی نیچے کی ٹیم ڈاکٹر عافیہ کی واپسی میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے جو خطوط اپنی والدہ عصمت صدیقی کو لکھے ہیں وہ بھی وزارت خارجہ نے ابھی تک انہیں نہیں دیئے ہیں اور وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ کے وکلاء اور اہل خانہ سے حکومتی کوششوں کی تفصیلات کو شیئر نہ کرنا بھی باعث تشویش ہے اس لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانے کے معاملے کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں تاکہ وہ عافیہ کو وطن واپس لانے کے وعدے کو پورا کرکے عوام کی عدالت میں سرخرو ہو سکیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے