لاہور (بیورو رپورٹ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ 1852 ملین روپے وہیکل ٹیکس دینے والے شہر کراچی کی خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اداروں کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 1520 ملین روپے دینے والے شہر کو نہ پانی ملتا ہے، نہ گیس اور نہ ہی بجلی۔ ہر محکمہ اپنی اپنی جگہ ڈان بنا ہوا ہے۔ ادارے اور افسران عوام کے حقوق پامال کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ ٹیکسز کی مد میں اس قدر رقومات کی وصولی کے باوجود کراچی کے حقوق غصب کرنا حکومت کی بددیانتی اور نااہلی ہے۔ پی پی پی پچھلی پانچ دہائیوں سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے لیکن ان پچاس سالوں میں نہ اسکولوں کی حالت بہتر ہوئی، نہ صحت و صفائی کی۔ ہر سال بارشوں میں شہر سمندر کا نقشہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔ سندھ کی صوبائی حکومت بس وفاق کے ساتھ نورا کشتی کر کے عوام کو الجھائے ہوئے ہے۔ سندھ کے اسکولوں اور ہسپتالوں میں گدھے بندھے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے سندھ حکومت کراچی شہر کو کھنڈر بنانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔ یہی حال رہا تو کراچی کچھ عرصہ بعد موہنجودڑو کا نقشہ پیش کر رہا ہوگا اور اس کی مکمل ذمہ داری پیپلز پارٹی اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ پر عائد ہوگی۔