تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پیپلز پارٹی نے الیکشنز میں کلین سوئپ کی تیاری مکمل کرلی ہے، کراچی کی تباہی میں وفاق اور پیپلز پارٹی دونوں برابر کی شریک ہیں۔ اقبال ہاشمی پاسبان

پیپلز پارٹی نے الیکشنز میں کلین سوئپ کی تیاری مکمل کرلی ہے، کراچی کی تباہی میں وفاق اور پیپلز پارٹی دونوں برابر کی شریک ہیں۔ اقبال ہاشمی پاسبان

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سرکاری اداروں میں اپنی مرضی کا عملہ اور اسکولوں میں اپنی مرضی کے اساتذہ مقرر کرکے آئندہ ہونے والے الیکشنز میں کلین سوئپ کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ کراچی پچاس سال سے پیپلز پارٹی کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ اب اسے قانونی حیثیت دینے کے لئے پیپلز پارٹی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ کراچی کی تباہی میں وفاق اور پیپلز پارٹی دونوں برابر کی شریک ہیں۔ ایم کیو ایم کراچی کی نمائندہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں پانچ ہزار اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز کی آسامیوں کو پر کرکے پچاس ارب روپے کمانے کا پلان بنا رہی ہے۔ پچاس ارب روپے کمانے کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی اسکولوں میں اپنے من پسند افراد کو تعینات کرکے انتخابات کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہے۔ عمران خان ملک کو ٹریک پر چڑھانے کی بجائے من پسند احتساب جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے چوروں کو این آر او دیا جارہا ہے۔ جعلی ڈومیسائل بنا کر سندھیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ سندھ میں زمین سے لے کر ملازمت تک سب برائے فروخت ہے۔ زرداری اینڈ کمپنی کا احتساب کیا جائے۔ کراچی کی آدھی قیمتی زمینوں پر زرداری کا قبضہ ہے۔ پاسبان اقتدار میں آکر تمام لٹیروں کا بے لاگ احتساب کرے گی۔ وڈیرہ ازم کو دفن کرکے یکساں عوامی حقوق کا نظام قائم کریں گے۔ دھرتی پر پیدا ہونے والے تمام شہری حقوق میں برابر ہیں، وسائل کی بنیاد پر اونچ تسلیم نہیں کرتے۔ مفاد اور سیاست ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ عوام آئندہ انتخابات میں ملکی سیاست کو سیاسی بھیڑیوں سے پاک کر دیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ سندھ کی دشمن خود پیپلز پارٹی ہے۔ پچھلے 50 سال سے ذیادہ سندھ پہ پی پی پی قابض رہی ہے لیکن ان پچاس سالوں میں نہ سندھ میں کوئی تبدیلی آئی، نہ اسکولوں کی حالت بہتر ہوئی اور نہ صحت کی۔ سندھ حکومت سے کھربوں روپے میں نالے تک ہی صاف نہ ہوسکے۔ 2010 میں پی پی پی نے ہی 18 ویں ترمیم کو وجود دیا اور آج عوام کو خوار ہوتا دیکھ کر پوری سندھ حکومت منظر سے غائب ہے۔ آج کراچی سمیت پورا سندھ تباہ حال ہے، صرف، بھٹو زندہ ہے، بی بی زندہ ہے، کھپے کھپے، مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسو کے نعرے زندہ ہیں مگر سندھی عوام مر رہی ہے۔ تھر میں لوگ قحط سے تڑپ رہے ہیں۔ اندرونِ سندھ اسپتال برباد ہیں۔ پانی وڈیرے لوٹ رہے ہیں۔ پولیس اور سندھ حکومت ڈاکوؤں کے سامنے بے بس ہے۔ سیکیورٹی کا نظام مکمل طور پہ ناکام ہو چکا ہے۔ اسکول تباہ حال ہیں، کاروبار تباہ حال ہیں۔ سندھ میں صرف بھٹو و زرداری خاندان ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ حکومت یا تو بجٹ کے وقت نظر آتی ہے یا جس وقت اٹھارہویں ترمیم کو خطرہ ہو۔ سندھ کی عوام کو اب جاگ جانا چاہیے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے