Home/اہم خبریں/سندھ کے عوام قائد بدنام کا ماتم کر رہا ہے، سندھ حکومت نے صوبے میں 41 ٹراما سینٹرز بنانے کا غلط دعویٰ کیا تھا۔ مرکزی رہنماء پی ٹی آئی فردوس شمیم نقوی
سندھ کے عوام قائد بدنام کا ماتم کر رہا ہے، سندھ حکومت نے صوبے میں 41 ٹراما سینٹرز بنانے کا غلط دعویٰ کیا تھا۔ مرکزی رہنماء پی ٹی آئی فردوس شمیم نقوی
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء و ممبر صوبائی اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آڈیٹر رپورٹ کے حوالے سے بحث کی جانی چاہیئے مگر بدقسمتی سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اپوزیشن ممبران کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی اس موقع پر پی ٹی آئی کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار، رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سنجے گنگوانی، رابعہ اظفر نظامی بھی موجود تھیں فردوس شمیم نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ 2019-20 میں صوبائی کارکردگی کا آڈٹ کرایا گیا اس آڈٹ کےمطابق جب سندھ میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تو سندھ میں مختلف بیماریوں نے جنم لیا اور اس کے مددنظر 2021 مارچ میں فیصلہ کیا گیا سندھ کے ضلع سطح پر 41 ٹراما سینٹر بنائیں جائیں گے اور یہ منصوبے دسمبر 2021 میں مکمل کیا جانا تھا رپورٹ کے مطابق ٹراما سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ 2019 تک مکمل نہیں ہوا جہاں بلڈنگ بنائی گئیں وہاں افرادی قوت نہیں دی گئی وہاں نہ ڈاکٹر، نرسیں، ٹیکنشن نہیں دیئے گئے سندھ حکومت کی ہیلتھ پروفائل آف سندھ نامی رپورٹ بھی جاری کی ہے اس وقت کے چوبیس اضلاع میں سات ٹراما سینٹر فنکشنل دکھائے گئے کراچی، حیدرآباد میں ایک ایک ٹراما سینٹر فنگشنل ہیں دادو سمیت دیگر میں صفر ٹراما سینٹر بنائے گئے، مٹیاری کے تین ٹراما سینٹر بتادئے گئے ہیں 2016 کی رپورٹ میں سات ٹراما سینٹر دکھائے یہ کام کرنے سے پہلے فزیبلٹی رپورٹ نہیں بناتے1585 ملین کی بے ضابتگیاں دکھائی گئی ہیں 2236 ملین کی تعمیرات میں مشکوک ادائگیاں کی گئی ہمیں سمجھ نہیں آتا یہ کیسے کہتے ہیں کہ سندھ میں صحت کا نظام سب سے اچھا ہے انہوں نے مزید کہا کہ سندھ قائد بدنام کا ماتم کر رہا ہے نام ان کا زرداری ہے یہ ملک پر بھاری ہے اس شخص نے کرپشن کو اتنا عام کر دیا ہے کہ بچے بھی چیٹنگ کو اپنا حق سمجھتے ہیں آصف علی زرداری کے کردار کو دیکھ کر بچوں کا کردار نظر آتا ہے امتحانی مراکز میں آج زرداری کا کردار نظر آرہا ہے جس حکومت سے ایک امتحانی ہال کنٹرول نہیں ہوسکتا جو امتحانات میں نقل کے سلسلے کو نہیں روک سکتی جہاں امتحانی سینٹر کا عملہ پیسے لے رہا ہو، پرچے آؤٹ ہو رہے ہوں واٹس ایپ کے ذریعے پرچے امتحانی ہال کے اندر باآسانی آجاتے ہیں اس حکومت سے کیا امید لگائی جاسکتی ہے ہم امتحانی سلسلے میں بدنظمی او الیول اور اے لیول میں نہیں دیکھی یہ تمام امتحانات بھی اسی صوبے میں لیے جاتے ہیں درحقیقت امتحانات لینے والے ذمہ داران خراب ہیں اور یہ خرابی اور نالائقی سندھ حکومت کی ہے، آج ہم نے ٹراما سینٹر پر بات کی ہے اگلے ہفتے گورکھ ہلز پر بات کریں گے وہاں بھی سندھ حکومت نے گورکھ دھندا لگایا ہوا ہے ٹراما سینیٹر کی رپورٹ واضح کر رہی ہے کہ حکومت سندھ نااہل اور کرپٹ ہے سندھ حکومت کوئی کام نہیں کرسکتی سوائے پیسہ بنانے کے اور اپنی جیبیں بھرنے کے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سندھ حکومت کی چیٹنگ کو بے نقاب کریں گے اور عوام کے سامنے لائیں گے ہم اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ سندھ حکومت کے چوروں سے باخبر رہیئے اور ان پر اعتبار نہ کریئے اس موقع پر پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی رابعہ اظفر نظامی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ سندھ میں جاری امتحانی صورتحال تشویشناک ہے ہم نے سابق وزیر تعلیم سردار علی شاہ اور موجودہ وزیر تعلیم سعید غنی صاحب کو بھی متعدد بار کہا کہ سندھ میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے 3 سال پہلے وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا تھا کہ تعلیمی بورڈ بچوں سے فیسیں نہیں لیں گے اور اعلان کیا گیا تھا کہ تعلیم کو فری کردیا گیا ہے، امتحانی اخراجات کو چلانے کیلئے امتحانی فیسوں کی وصولی کی جاتی ہے مراد علی شاہ نے بورڈ کے اخراجات کے حوالے سے بجٹ میں رقم مختص کرنے کا بھی اعلان کیا تھا بورڈ کے اخراجات 2 ارب سے زائد ہے ہر سال بورڈز کیلئے رقم مختص کی جاتی ہے مگر اس کے باوجود بھی بورڈ انتظامیہ ہر سال وزیراعلیٰ کو خط لکھتے ہیں کہ ان کا فنڈز دیا جائے یہ رقم بجٹ کی کتابوں میں دکھائی جاتی ہے مگر بورڈز کو یہ رقم نہیں دی جاتی انہوں نے کہا کہ امتحانی مراکز میں نقل کا سلسلہ سرگرم ہے بااثر افراد اور ان کے بچے دھڑلے سے نقل کرتے ہیں 3 سالوں میں ہم نے چئیرمین بورڈز کے کوئی اقدامات نہیں دیکھے وزیراعلیٰ سندھ سے تعلیمی نظام کے خاتمے کا اپنے بڑوں سے عہد کیا ہوا صوبے کے بچے تعلیم یافتہ ہوں گے تو اپنے بہتر مستقبل کیلئے مثبت فیصلے کرسکتے ہیں مگر سندھ حکومت کی عدم توجہی سے صوبے میں تعلیم کا نظام 13 سالوں سے بدسے بدتر ہوگیا ہے ہم بلوچستان سے بھی پیچھے رہ چکے ہیں۔