تازہ ترین
Home / اہم خبریں / نور مقدم کیس حکومت اور انتظامی مشنری کا غیر جانبدار انصاف فراہمی کا امتحان ہے۔ خلیل احمد تھند وائس چیئرمین پی ڈی پی

نور مقدم کیس حکومت اور انتظامی مشنری کا غیر جانبدار انصاف فراہمی کا امتحان ہے۔ خلیل احمد تھند وائس چیئرمین پی ڈی پی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین خلیل احمد تھند اور پاسبان ہیومن رائٹس ایڈووکیسی کے ڈائریکٹر عبداللہ منصور نے کہا ہے کہ نور مقدم قتل کیس حکومت اور انتظامی مشینری کا امتحان ہے کہ وہ غیر جانبدار انصاف کی فراہمی ممکن بنانے کی اہلیت رکھتی ہے یا نہیں؟ ایسے جرائم کو برداشت کرنا معاشرے کو دانستہ تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ ظالموں کو جب تک نشان عبرت نہیں بنایا جائے گا، جنونی مریضوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی۔ نور مقدم قتل کی سفاکیت کو محض اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی کے گھر تنہا موجود تھی۔ قاتل ظاہر جعفر کو ایک جان پر بیہمانہ تشدد اور اس کے سفاکانہ قتل کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشرہ پُر تشدد رویہ اپنا رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک خوفناک واقعات رونما ہو رہے ہیں، کمزور نظام انصاف جرائم کی مزید حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ نور مقدم قتل کیس ملک کے دانشوروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے انہیں ایسے عوامل کی روک تھام کے لئے قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت درست رخ کریں تاکہ ایک صحت مند معاشرہ قائم ہوسکے۔ نور مقدم قتل کیس میں اگر مجرم کو سزا نہ دی گئی، تو آئندہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن نہ ہو سکے گی۔ ظاہر جعفر سمیت خواتین، بچوں، بچیوں اورتمام انسانوں کے قاتلوں کو اور ان کا ساتھ دینے والوں کو معاف کرنے کے بجائے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی چیئرمین الطاف شکور کی قیادت میں ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لئے سرگرم عمل ہے جس میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہو اور بیٹیوں سمیت ہر شہری کی جان و مال اور عزت محفوظ ہو۔ پاسبان اسٹیئرنگ کمیٹی کی آن لائن میٹنگ میں ملک میں روز بروز بڑھتے جنسی واقعات، اغواء اور قتل کے واقعات اور نور مقدم قتل کیس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین خلیل احمد تھند اور پاسبان ہیومن رائٹس ایڈووکیسی کے ڈائریکٹرعبداللہ منصور نے مزید کہا کہ ہمارا معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہے۔ ایک طبقہ مادر پدر آزادی کا شکار ہے اور دوسرے نے انفرادی آزادیاں سلب کی ہوئی ہیں۔ دونوں انتہائیں معاشرتی مسائل پیدا کرنے باعث بن رہی ہیں۔ منفی عوامل سے بچنے کے لیے متوازن رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ شہریوں کی جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کیا مرکزی اور صوبائی کابینہ اور اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ملک میں جاری اغواء اور قتل کے واقعات سے بے خبر ہیں؟ سانحہ ساہیوال سے سانحہ نور مقدم تک ڈھیروں ظالمانہ واقعات کی وجہ انصاف کے نظام کا سست ہونا ہے۔ تیز ترین اور سستے انصاف کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات کئے جائیں۔ ظاہر جعفر جیسے شیطان صفت انسان کسی قانون اور نظام کو نہیں مانتے، ایسے بے لگام درندوں کو آزاد چھوڑنا ملک کی بیٹیوں کی عزتوں اور جانوں کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ حکومت ایسے درندوں کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزائیں دے تاکہ خواتین آزادی کے ساتھ زندگی گذار سکیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے