![]()
یہ حقیقت ہے اور ہمیں معلوم بھی ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ یہ ایک ایسی خطرناک عادت ہے جس میں خواتین و حضرات دونوں مبتلا ہیں اور آج کے دور میں سگریٹ نوشی کا رجحان روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل اس بری عادت کا زیادہ شکار ہو رہی ہے۔ بعض لوگ اسے صرف ایک معمولی عادت سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں سگریٹ نوشی انسان کی جسمانی، ذہنی اور مالی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ سگریٹ میں موجود مضر اور نشہ آور اجزا انسان کو آہستہ آہستہ اس کا عادی بنا دیتے ہیں، جس کے بعد اسے چھوڑنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
سگریٹ نوشی کے خلاف دنیا کے بعض ممالک میں پابندیاں اور مختلف قوانین بھی نافذ کیے گئے ہیں، جبکہ اس کی روک تھام کے لیے فلاحی ادارے اور دیگر تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں تاکہ لوگوں کو اس خطرناک عادت کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے باوجود سگریٹ نوشی میں کمی کے بجائے کئی جگہوں پر اس کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ ہماری سوچ سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس کے اثرات صرف سگریٹ پینے والے شخص تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اردگرد موجود افراد بھی اس کے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔
سگریٹ نوشی سے غریب گھرانے بھی بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ جو رقم انہیں اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کرنی چاہیے، وہ سگریٹ جیسی نقصان دہ چیز پر خرچ کر دیتے ہیں۔ جب مسلسل سگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے علاج پر بھی بہت سا پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ یوں ایک شخص نہ صرف اپنی صحت برباد کرتا ہے بلکہ اپنے خاندان کی معاشی حالت کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ بعض اوقات حالت یہ ہوتی ہے کہ بچہ گھر میں دودھ کے لیے ترس رہا ہوتا ہے، جبکہ باپ اپنی محنت کی کمائی سگریٹ پر خرچ کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ سگریٹ نوشی صرف فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کا مسئلہ ہے۔
سگریٹ ایک نشہ آور چیز ہے جو ایک دفعہ انسان کو لگ جائے تو اسے چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ سگریٹ کی طلب بار بار محسوس ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص اس عادت کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بعض اوقات وہ پان، نسوار اور گٹکے وغیرہ کا سہارا لینے لگتا ہے، حالانکہ یہ چیزیں بھی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ اس لیے ایک نشے کو چھوڑ کر دوسرے نشے کو اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ بعض ہسپتالوں اور طبی مراکز میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے ادویات اور دیگر طریقۂ علاج بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی اس عادت کو ختم کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کرے اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ صحت سے بھی مدد لے۔
اگر ہم چاہیں تو خراب سے خراب عادت کو بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے مضبوط ارادہ کرنا ضروری ہے کہ ہمیں یہ عادت ہر حال میں چھوڑنی ہے۔ اس کے بعد اپنے معمولات میں مثبت تبدیلیاں لانی چاہییں۔ صبح سویرے اٹھنے کی عادت اپنائیں، ورزش کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور اپنے آپ کو صحت مند سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔ جب انسان اپنے وقت کو مفید کاموں میں صرف کرتا ہے تو اس کے لیے بری عادتوں سے دور رہنا آسان ہو جاتا ہے۔
لوگ اکثر کھانے کے بعد سگریٹ پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں سگریٹ کے بجائے پانی، چائے یا کوئی صحت بخش مشروب استعمال کیا جا سکتا ہے اور کچھ دیر چہل قدمی بھی کی جا سکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے دوستوں کی محفل سے حتی الامکان دور رہیں، کیونکہ بری صحبت انسان کو دوبارہ اسی عادت کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے پاس موجود سگریٹ، لائٹر، ڈبیاں اور اس سے متعلق تمام سامان فوراً گھر سے باہر نکال دیں تاکہ دوبارہ استعمال کا موقع نہ ملے۔
آخر میں ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم خود بھی سگریٹ نوشی سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد پر توجہ دیں اور انہیں نشہ آور اشیا کے نقصانات کے بارے میں سمجھائیں۔ نوجوان نسل اگر اپنی صحت اور مستقبل کی قدر کرے تو وہ اس خطرناک عادت سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور ہمیں اس نعمت کی حفاظت کرنی چاہیے۔ مضبوط ارادے، اچھی صحبت، مثبت سرگرمیوں اور مسلسل کوشش کے ذریعے سگریٹ نوشی جیسی بری عادت کو ترک کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم سچے دل سے کوشش کریں تو ان شاء اللہ ایک دن اس عادت سے مکمل طور پر نجات حاصل کر سکتے ہیں۔