کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ہیریٹج فاؤنڈیش پاکستان کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں کلونیئل ہیریٹیج کی عمارت کلکتہ ہاؤس کی بحالی پر زور دیا گیا جس کا ایک حصہ حال ہی میں منہدم ہوا جس کی وجہ سے18خاندان دربددر ہوگئے۔اس پریس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد کلکتہ ہاؤس اور اس جیسی پانچ سو دیگر تاریخی عمارات جو اس وقت مخدوش حالت میں ہیں پر روشنی ڈالنا تھا تاکہ ان کی بحالی کیلئے اقدامات کئے جاسکیں۔ تقریب میں میڈیا اور آرکیٹکچرل طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایچ ایف پی کی چیئرپرسن آرکیٹکٹ یاسمین لاری نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’حال ہی میں ہیرٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سے کلکتہ ہاؤس کا تفصیلی معائنہ کیا گیاجس سے یہ بات سامنے آئی کہ اس کے پلرز اور اسٹریکچر ابھی بھی مضبوط ہیں اور ان میں معمولی دراڑیں پڑی ہیں جنہیں باآسانی ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ منہدم شدہ حصے کو بھی باآسانی اصل حالت میں لایا جاسکتا ہے۔ معائنے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انہدام کی وجہ پانی کارساؤ اور بعد میں کی جانے والی ناقص آر سی سی تعمیر ہے جو اس وقت بھی عمارت کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ چھت پر کی جانے والی تعمیرات بھی عمارت کیلئے خطرہ ہے جسے فوری طور پر ہٹادیا جانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جلد از جلد اس کی بحالی پر کام کیا جائے تاکہ مکینوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ یاسمین لاری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشاہدے میں تقریباایک ہزار ایسی عمارات آئی ہیں جن میں پچاس فیصد عمارات ایسی ہیں جو سندھ ہیرٹیج ایڈوائزری کی جانب سے منظور شدہ نئی تعمیرات کی وجہ سے خطرے کی زد میں ہیں۔ان خطرات سے بچاؤ کیلئے انہوں نے درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں۔ حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کرلینی چاہئے کہ جتنی بھی نوٹیفائیڈ عمارات ہیں انہیں بغیر پروفیشنل جانچ کے محض فنڈنگ کی خاطر ڈیمالش نہ ہونے دیا جائے۔
سندھ ہیرٹیج ایڈوائزری کمیٹی کے وہ ممبران جو سالہا سال سے اس سے منسلک ہیں اور ڈیمالش کی اجازت دے رہے ہیں ان کی جگہ نئے چہروں کو موقع دیا جائے۔ کسی بھی پرائیوٹ ممبر کو کمیٹی میں دوسال اور دو ٹرمزسے زیادہ خدمات کی اجازت نہ دی جائے۔ نوٹیفائیڈ بلڈنگ کی جگہ نئی عمارات کی اجازت صرف اس صورت میں دی جائے کہ نئی تعمیر پرانی بلڈنگ کے یکساں (فلور ایریاریشو) پر کی جائے اس سے ہیرٹیج سائیٹ کو مسمار کرکے بلند و بالا عمارات تعمیر کرنیوالوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔اس سے نہ صرف کراچی کی پرانی شکل و صورت کی بحالی ممکن ہوسکے گی بلکہ انفرااسٹریکچر یعنی روڈ‘ پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم پر بھی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

تاریخی کلکتہ ہاؤس ودیگر تاریخی عمارات کی بحالی کیلئے حکومت فوری طور پر اقدامات کرے- ہیریٹج فاؤنڈیش پاکستان فوٹو: نوپ نیوز