کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ حکومت عیدالاضحی پر قیمتوں کو کنٹرول کرے۔ تہواروں پر عوام کی کھال اتارنے کا رجحان ختم ہونا چاہئے۔ عوام کا پرسان حال کوئی نہیں، عمران خان کے سارے دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہو رہے ہیں۔ سہولیات فراہم کرنے کی بجائے عوام کو قربان کیا جا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تہواروں پر خصوصی رعایت فراہم کی جاتی ہے ہمارے ہاں لوٹ مار کا بازار گرم کردیا جاتا ہے۔ حکومت تین سال میں کوئی ریلیف نہیں دے سکی۔ لوٹ مار کرنے والے حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے گراں فروشوں کو بھی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ مہنگائی بے روزگاری کی وجہ عام آدمی کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ آمدن سکڑ رہی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے قربانی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہے۔ مغرب کی مثالیں دینے والے بھی لوٹ مار کرنے والوں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ عوامی مسائل کا حل مشرق یا مغرب ماڈل نہیں قوم کی ہمدرد وولینٹئر سیاسی قیادت ہے۔ ہر آنے والے وقت میں حکومت کے چہرے سے نقاب اتر رہا ہے۔ قوم سے دھوکہ دہی ناقابل معافی جرم ہے۔ عام آدمی کی ترجمانی کے لئے میدان میں اترے ہیں ملک و قوم کو لوٹنے والوں دھوکہ دینے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ سیاسی فریب کاری کا دروازہ بند کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پی ڈی پی کراچی کے آرگنائزر طارق چاندی والا نے پاسبان پبلک سیکریٹریٹ میں آئے ہوئے ایک عوامی وفد سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصہ میں مہنگائی کو پر لگ گئے ہیں، چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگ گئی ہیں۔ صرف ایک دن میں چینی کی 25 کلو والی بوری پر ڈیڑھ سو روپے فی بوری بڑھا دیئے گئے ہیں۔ عیدالاضحی سے قبل مہنگائی کے طوفان نے عوام کی خوشیاں برباد کر دی ہیں۔ روزمرہ اجرت پر کام کرنے والا اور متوسط طبقہ پریشان ہے۔ بیروزگار افراد فاقہ کشی اور خودکشی پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ کمشنر کراچی کی جانب سے جاری کی جانے والی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کی فہرست عوام کے ساتھ انتہائی بھونڈا مذاق ہیں جو جاری تو روز کی جاتی ہیں لیکن ان کا اطلاق کہیں نہیں ہوتا۔ سبزیوں کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ گئی ہیں۔ دودھ، دہی، تیل، انڈے غرض کے عام روزمرہ استعمال کی ہر چیز انتہائی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے اور کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے۔ ملک میں مہنگائی ہوئی ہے مگر تاجر حضرات نے اپنی مرضی سے بھی خود ساختہ مہنگائی کر رکھی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے تہواروں پر عوام کو 50 فیصد قیمتیں کم کر کے سامان دیتے ہیں تاکہ غٖریب بھی تہوار بھرپور طریقے سے منا سکیں۔ مگر ہم تہواروں پر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ غریب تو دور عام آدمی کی قوت خرید سے بھی باہر ہو جائیں۔ مہنگائی کرنے والوں کا محاسبہ کیا جانا انتہائی ضروری ہے بصورت دیگر عوام کسی بیماری یا وباء سے مرنے کے بجائے بھوک اور افلاس سے مرنے لگیں گے۔ ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جانے چاہئیں۔