کوئٹہ (رپورٹ: ہما بیگم) چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریبا 1100 کلومیٹر طویل روڈ نیٹ ورک مکمل ہوچکا ہے جبکہ 850 کلومیٹر طویل زیر تعمیر ہے۔ گوادر پرو کے مطابق نئی موٹر ویز اور شاہراہیں اب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی کے زریعے تعمیر کی جا رہی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم نے پہلے ہی یہ اطلاع دی ہے کہ پاکستان اچھے روڈ نیٹ ورک کیساتھ ایران، روس، بنگلہ دیش، ویتنام اور بہت سے دوسرے ممالک سے آگے ہے۔ سی پیک کے تحت نئے میگا پروجیکٹس کی تعمیر سے پاکستان اپنی درجہ بندی اور معیار میں نمایاں طور پر مزید بہتری لائے گا۔ سی پی ای سی اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے تحت روڈ پروجیکٹس کی ترقی سے نہ صرف ملک کی درجہ بندی میں بہتری آئے گی بلکہ اس سے روڈ نیٹ ورک، نقل و حمل اور لاجسٹک کا معیار بھی اچھا ہوگا۔ اگلے دو ہفتوں میں 69 کلومیٹر طویل سیالکوٹ، کھاریاں موٹر وے اور 62 کلومیٹر طویل ملتان، لودھراں ہائی وے کی تعمیر بھی شروع ہوجائے گی۔ جبکہ سکھر، حیدرآباد موٹر وے کی تعمیر اگست 2021 میں شروع ہوگی۔ سندھ اور پنجاب کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان میں سی پیک مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے۔ سی پیک کے تحت نیا روڈ نیٹ ورک پاکستان کی ایران آمد و رفت میں بہتری لائے گا۔ سی پیک مغربی روٹ پر کام سے بلوچستان اور صوبہ کے پی کے کے انتہائی کم ترقی یافتہ علاقوں کو فائدہ ہوگا۔ سی پیک روڈ نیٹ ورک سے ان علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں روڈ انفراسٹرکچر منصوبے شروع کیے جارہے ہیں تاکہ انہیں دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جاسکے۔ گوادر پرو کے مطابق حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے 103 کلومیٹر لمبی نوکندی، مشاخیل روڈ کا افتتاح کیا تھا۔ این-40 کو این-85 اور ایم -8 سے منسلک کرنے کے بعد،(سی پیک مغربی روٹ) چاغی-نوکنڈی سیکٹر کو گوادر سے جوڑنے سے پورا دور دراز خطہ کھل جائے گا۔