آج کے دور کی سیاست دیکھتا ہوں تو اس کی زندگی پریوں کے کسی دیس کی کہانی لگتی ہے۔سندھ کا مقبول ترین اور سیاسی طور پر طاقتور ممبر سندھ اسمبلی جس نے ساری زندگی سادگی اور عجز کے ساتھ گزار دی۔جسے دنیاوی عیش و عشرت کی کوئی تمنا نہیں تھی اوروہ اوراس کا گھر اسی تنخواہ پر چلتا تھا جو اسے بطور ممبر ملتی تھی جب کہ سچ بات تو یہ ہے کہ اگر وہ چاہتا تو موجودہ دور کے سیاست دانوں کی طرح دولت کے انبار لگا دیتا مگر پھر اسے کون یاد رکھتا اور اس کی شہادت کے ۹۳ سال بعد بھی کون اس کے لئے آنسوؤں کے انبار لگا دیتا۔ میرا اشارہ سندھ اسمبلی کے مقبول اور مشہور ممبر اسمبلی شہید ظہور الحسن بھوپالی کی جانب ہے جن کی برسی ستمبر کے مہینے میں ان کی شہادت کے دن یعنی ۳۱ ستمبر کو منائی جاتی ہے۔
شہید ظہور الحسن بھوپالی کی زندگی جدوجہد انتھک محنت اور عوام کی خدمت سے تعبیر تھی۔انہوں نے معاشرے میں اپنی پہچان اپنی ذہانت اور محنت سے منوائی۔وہ ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے مگر بچپن سے ہی تقریر اور تحریر کا شوق تھا اور خاص طور پر عید میلاد النبیﷺ کی تقاریب میں وہ جوش اور جذ بے کے ساتھ شرکت کرتے اور ان کی تقاریر لوگوں کے دل میں اتر جاتی تھیں۔فن مقرری میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور ان کی کسی مباحثے میں موجودگی باقی مقررین کو یہ پیغام پہنچادیتی تھی کہ وہ کم سے کم پہلے انعام کی توقع تو نہ ہی رکھیں۔ظہور بھوپالی شہید نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سحافت کے پیشے سے کیا اور کراچی کے صف اول کے ایک اردو کے اخبار سے منسلک ہوگئے۔ اسی دوران انہیں جمعیت علما پاکستان نے 70 ء کے عام انتخابات میں لائنز ایریا سے سندھ اسمبلی کے لئے ٹکٹ دے دیا اور ان کے فن خطابت کے سامنے کون ٹھہر سکتا تھا سو وہ سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے۔ان کی شہرت کو ان کی سندھ اسمبلی میں کارکردگی نے چار چاند لگادیے۔شہید جو کام بھی کرتے تھے بہت محبت،محنت اور لیاقت کے ساتھ کرتے تھے اور سندھ اسمبلی نے تو انہیں اپنے جواہر دکھانے کا بھر موقع فراہم کیا اور چند ہی مہینوں میں ان کے شہرت پورے صوبے بلکہ ملک بھرمیں پھیل گئی۔سندھ اسمبلی میں تو یہ حال تھا کہ روزانہ گویا ظہور الحسن بھوپالی شو ہوتا تھا اور بڑے بڑے وزیر بھی اس وقت سے ڈرتے تھے کہ کہیں بھوپالی کا روئے سخن ان کی جانب نہ ہوجائے۔ممبران تو ممبران خود سندھ اسمبلی کے اسپیکر ان سے خائف رہتے تھے اور اجلاس سے پہلے بھوپالی سے درخواست کرتے تھے کہ وہ ان کا خیال رکھیں اور انہیں کسی معاملے میں شرمندہ نہ کریں۔ بھوپالی صاحب ویسے تو اس قسم کی درخواستوں پر کسی رد عمل کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے مگر وقت آنے پر اپنے حق نمائندگی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے اور کہتے وہی تھے جو سچ اور انصاف پر مبنی ہو۔ ان کی تقاریر اور استدلال کی اس قدر شہرت تھی کی جس روز وہ بجٹ پر تقریر کرتے اس دن عوامی گیلریاں بھری ہوتی تھیں اور مہمانوں کو ان گیلر یوں کے پاس حاصل کرنے میں اسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہوتا تھے جیسے کسی ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ میچ میں شائقین کو ٹکٹ حاصل کرتے وقت ہوتا ہے۔سندھ اسمبلی کے باہر یعنی ان کے حلقہ انتخاب میں بھی ان کی کارکردگی بے مثال تھی اور وہ دن رات اپنے حلقے میں عوام کے مسائل حل کرنے میں لگے رہتے تھے۔وہ اپنے حلقہ کے لوگوں کے مسائل کا اس قدر خیال رکھتے تھے کی زیادہ تر وقت انہیں حل کرنے میں لگاتے اور اگر ہم سب دوست کہیں سیر تفریح کے لئے جارہے ہوتے اور اس دوران بھوپالی صاحب کے حلقے سے کوئیدعوت آ ّجاتی یا کسی مسئلے کے حل کی لئے جانا پڑتا تو شہید تمام دوسری مصروفیات چھوڑ کر اس کے حل کے لئے چلے جاتے۔
سندہ اسمبلی کا ان کے دور کا سیشن کون بھول سکتا ہے۔ ان پر تو بس وہ مثل صادق آتی تھی کہ وہ آیا اس نے دیکھا اور اس نے فتح کرلیا۔ جب ظہور الحسن بھوپالی شہید اسمبلی سے خطاب کرتے تو سب پر سکوت طاری ہوجاتااور لوگ ان کی مدلل اور پرمغز تقریر میں گویا کھوکر رہ جاتے۔ ان کا من پسند موضوع عام آدمی کے مسائل تھے چاہے وہ پانی کا مسئلہ ہو یا بجلی کا کسی مظلوم کی گرفتاری کا یاکسی ظالم کے قانون سے فرار کا وہ کسی کو نہیں بخشتے تھے اور جو حق ہو اسے کہنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ وہ اس لئے ڈٹ کر بول سکتے تھے کیونکہ ان کے ہاتھ اور ضمیر صاف تھے اور ان پر کسی بدعنوانی کا سایہ بھی نہین پڑا تھا۔ اس زمانے کی حکمران جمات بھی ان کے دلائل کو غورسے سنتی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ظہورالحسن بھوپالی ایک بے لوث سیاسی کارکن ہین اور ان کی تمام تقاریر کسی ذاتی فائدہ یا منافع کے لئے نہین ہوتی تھین۔ ذرا غور کیجئے کہ آج کے ماحول میں جب سیاست دانون کی بدعنوانیوں کی داستانیں چہار سو بکھری ہوئی ہیں۔ ظہورالحسن بھوپالی کا کردار کیسا ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ شہید نے ایسی سچی،اچھی ۱ور دیانت دارانہ زندگی گزاری کہ آج کے دور کی تعریف کے حوالے سے انہیں سیاست دان کہنا ان کی توہین ہے۔
جس بات کو لوگ ہزاروں جانوں کو قربان کرکے پہچانے اسے شہید نے اپنی زندگی مین ہی بھانپ لیا تھا اور اندازہ کرلیا تھا کہ صوبہ سندھ میں جب تک دونوں طبقوں میں اتحاد نہیں ہوگا صوبہ اور پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ اسی مقصد کے لئے انہوں نے استحکام پاکستان کونسل کی بنیاد ڈالی اور دونوں طبقوں کو اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔ استحکام پاکستان کونسل کا پہلاکنونشن گلشن اقبال کراچی میں ہوا اور اس میں اردو اور سندھی بولنے والوں نے بے مثال محبت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس کنونشن کی کامیابی سے وطن دشمنوں میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے شہید کو راستے سے ہٹا نے کا منصوبہ بنایا۔ آخرکا دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب ہوگئے اور انہیں دن دہاڑے شہید کردیا گیا۔
آج پورا کراچی پریشان ہے اور کوڑے کرکٹ کے انبار میں دفن ہو چکا ہے۔ نہ پینے کا پانی دستیاب ہے اور نہ صفائی اور ستھرائی۔ساتھ ہی ساتھ لاقانونیت روز انہ جانے کتنے گھر اجاڑ دیتی ہے۔ شہید بھوپالی کے دور میں یہ سب کچھ ممکن نہیں تھا۔ وہ دن رات لوگوں کے مسائل کے حل کی تگ و دو میں لگے رہتے تھے اور حزب اختلاف میں رہتے ہوئے بھی حکمراں جمات کو لوگوں کے مسائل کے حلؒ پر مجبور کردیتے تھے اور اس کا راز یہ تھا کہ انہوں نے حکمرانوں کے سامنے کبھی اپنے لئے یا اپنے دوستوں رشتہ داروں کے لئے دامن نہیں پھیلایا بلکہ ہمیشہ ان پر عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے زور ڈالا۔یہی ان کی سب سے بڑی قوت تھی اور اسی وجہ سے آج ۹۳ برس گزرنے کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پر بھوپالی کا قرض ہے کہ ہم اس کا پیغام زندہ رکھیں۔۔۔