تازہ ترین
Home / آرٹیکل / نجی تعلیمی اداروں کی خدمات اور انکے ساتھ حکومتی غیر سنجیدہ رویہ ۔ تحریر: دانش الزماں چیئرمین پسماء

نجی تعلیمی اداروں کی خدمات اور انکے ساتھ حکومتی غیر سنجیدہ رویہ ۔ تحریر: دانش الزماں چیئرمین پسماء

نجی تعلیمی اداروں کی خدمات اور انکے ساتھ حکومتی غیر سنجیدہ رویہ

تحریر: دانش الزماں

چیئرمین پرائویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن

پانچ سو روپے سے لے کر 5000 روپے تک ماہانہ فیس وصول کرنے والے نجی تعلیمی ادارے اور انکا وجود انقلاب تعلیم میں اہم سنگ میل ہے اگر انکا وجود نہ رہا تو ملک کا مستقبل داؤ پر لگنے کا خدشہ ہے۔ میری توجہ کا مرکز والدین، اساتذہ کرام، تمام اعلی حکومتی عہدیداران، تمام صحافی دوست حضرات اور عوام الناس ہیں۔

کم و بیش پانچ دہائیوں سے ملک پاکستان اور بلخصوص صوبہ سندھ میں نجی تعلیمی اداروں نے محدود وسائل اور حکومت کے عدم تعاون اور تعلیمی سرگرمیوں میں عدم دلچسپی کے باوجود تعلیم کا چراغ روشن کر کے اسکو عام کرنے کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ آبادی کے تناسب سے جہاں ان پانچ دہائیوں میں تعلیمی اداروں کی کثرت سے ضرورت بڑھتی گئی وہیں حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار گرتا چلا گیا اور تعلیم کی کثرت ضرورت کے ساتھ علم دوست شخصیات اور والدین کے تعاون سے نجی تعلیمی ادارے جوق درجوق وجود میں آتے چلے گئے اگر ان مشکل حالات میں نجی تعلیمی ادارے وجود میں نہ آتے تو ملک کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا۔ ان میں اکثریت ان تعلیمی اداروں کی ہے جن کی ماہانہ فیس اس وقت 500 روپے سے لے کر 5000 روپے تک ہے جن میں سے بیشتر کرائے کے مکان پر ہیں اور اس وقت کم سے کم 80 گز کے مکان کا ہی کرایہ ماہانہ 80 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک ہے اگر بڑے مکانوں کی بات کی جائے تو انکا ماہانہ کرایہ کم ماہانہ فیس وصول کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کی پہنچ سے بہت دور ہے جن کی تعداد اکثریت میں ہے جس پر اساتذہ کی ماہانہ تنخواہیں، یوٹیلیٹی بلز جو کہ ذیادہ تر کمرشل ٹیرف پر آتے ہیں سینکڑوں طریقے کہ حکومتی ٹیکسز جن میں ایسے ٹیکسز جن کا تعلیمی اداروں سے تعلق ہی نہیں ہے جس میں سرفہرست ٹریڈ لائسنس اور پروفیشنل ٹیکسز کے نام پر لاکھوں روپے کے چالان، تعلیمی محکموں کی رجسٹریشن اور رینول فیس بلڈنگ مینٹیننس اور بے شمار اخراجات کم ماہانہ فیس وصول کرنے والا نجی تعلیمی اداراہ ازخود برداشت کرتا ہے کم ماہانہ فیس وصول کرنے والا نجی تعلیمی ادارہ جہاں لاکھوں طلبعلموں کی درس گاہ ہے وہیں لاکھوں اساتذہ کو روزگار بھی فراہم کر رہا ہے۔
مگر افسوس حکومت کی جانب سے ان محدود وسائل میں چلنے والے تعلیمی اداروں کو وسائل فراہم کرنے کے بجائے غیر سنجیدہ فیصلوں کی وجہ سے مسلسل مسائل ہی پیدا کئے جا رہے ہیں۔
یہاں تک کہ معمولی سی بات پر اساتذہ کرام کے ہاتھوں کو جو قلم کی طاقت سے طالبعلموں کا مستقبل روشن کرتے آ رہے ہیں۔ ان ہاتھوں کو ہتھکڑیاں لگائی جارہی ہیں تو کبھی درس گاہوں کو بات بات پر سیل کر دیا جاتا ہے یہ رواج اب عام ہوتا جا رہا ہے۔
کبھی ملک گیر ویکسینیشن مہم میں تعاون کے باوجود عدم تعاون کا نام دے کر تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی کرنا انہیں سیل کر دینا ایک استاد اور پرنسپل کے ساتھ مجرم جیسا برتاؤ کرنا۔
کبھی کورونا وباء کے دوران نجی تعلیمی اداروں کو بے یارو مددگار چھوردینا۔ کبھی تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کے بجائے کھیل کود کے میدان نہ ہونے پر انکے خلاف کمیٹی تشکیل دینا جس کا واضح مقصد کم ماہانہ فیس وصول کرنے والے تعلیمی اداروں کا وجود ختم کر کے مڈل اور لوئر مڈل کلاس طبقے کے لئے بنیادی تعلیم کے بھی دروازے بند کر دینا ہے۔
کبھی نجی تعلیمی اداروں کے طلبعلموں کی امتحانی اور ماہانہ فیس میں دگنا اضافہ کر دینا۔
کبھی قومی مہم میں والدین کی جانب سے عدم تعاون پر نجی تعلیمی اداروں اور انکے مالکان کو قصور وار ٹھیرا کر انکے خلاف کاروائی شروع کر دینا۔
کبھی 25000 روپے کم سے کم ماہانہ اجرت کے نام پر کم ماہانہ فیس وصول کرنے والے نجی تعلیمی اداروں میں پریشانی اور مشکلات پیدا کرنا۔
نجی تعلیمی اداروں کی قوم کے لئے کی گئی خدمات پر حکومت کی جانب سے ایسے کئی مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں۔
جن کا بنیادی مقصد کم ماہانہ فیس وصول کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کا وجود خطرے میں ڈالنا ہے۔
کئی دہائیوں سے نجی تعلیمی اداراہ صوبہ سندھ اور ملک پاکستان کے کونے کونے میں علم کا چراغ روشن کر کے ملک کو روشن مستقبل دینے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت ہر ایک تعلیمی ادارہ چاہے وہ چھوٹی عمارت پر ہو یہ بڑی عمارت پر انقلاب تعلیم میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ان تعلیمی اداروں کی وجہ سے مڈل کلاس طبقے اور لوئر مڈل کلاس طبقے کے والدین اپنی اولادوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں ان ہی تعلیمی اداروں کی محنت سے آج یہ معاشرہ ایک با شعور اور تعلیم یافتہ معاشرہ ہے۔
حکومت نجی تعلیمی اداروں کے معاملے میں غیر سنجیدہ فیصلوں سے گریز کرے حکومت کی مکمل توجہ اس وقت پبلک اسکولوں کی طرف ہونی چاہئے جو ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ جس رفتار سے نجی تعلیمی اداروں کہ خلاف نئے نئے احکامات جاری کر کے کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہیں یہ تشویش ناک ہے۔ تعلیم کی بہتری کے لئے حکومت کی توجہ کا مرکز پبلک اسکول ہونا چاہئے پرائویٹ اسکول مینجمنٹ ایسو سی ایشن وزیر اعلی سندھ محکمہ تعلیم سندھ اور وزیر تعلیم سندھ سے فوری مطالبہ کرتی ہے ایسے تمام احکامات جن سے نجی تعلیمی اداروں کے لئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں انہیں تعلیمی اداروں اور طلبعلموں کے بہتر مفاد میں واپس لیا جائے اور تعلیمی اداروں کے لئے بجائے مسائل کے وسائل پیدا کئے جائیں وہ تمام تعلیمی ادارے جن کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیل کیا گیا ہے فوری بحال کر کے ان میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جائیں۔ پسماء نجی تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے خلاف کی جانے والی بے جا کاروائیوں کی پر زور مزمت کرتی ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے