کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جرنلسٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس بدھ 30 جون کو مرکزی آفس میں منعقد ہوا جس میں راؤ محمد جمیل، سید جعفر، عرفان ساگر، مخدوم عادل، ندیم احمد شیخ، محمد افضل سندھو اور تصدق غوری نے شرکت کی جبکہ معروف قانون دان بیرسٹر حبیب بلوچ خصوصی طور پر شریک ہوئے اجلاس میں کراچی پریس کلب کو قبضہ مافیاز کی جانب سے دہشت گردی، سنگین جرائم میں ملوث عناصر کی پناہ گاہ بنانے اور کراچی پریس کلب کو ملنے والی امداد میں بڑے پیمانے پر خرد برد کی مصدقہ اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اجلاس میں طے پایا کہ کراچی پریس کلب کو ملکی اور غیر ملکی گرانٹ فوری طور پر معطل کرانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گئے شرکاء نے گذشتہ یاددانیوں کے مراسلوں پر کارروائی نہ کئے جانے کا سخت نوٹس لیا اور کراچی پریس کلب کو ملنے والی گذشتہ 10 سال کی امداد، چندے، اخراجات اور مختلف گرانٹ کا فرگوسن یا اس جیسی کسی نیک شہرت کی حامل فرم سے فوری کرانے کا مطالبہ کیا گیا اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے رابطہ کرکے گذشتہ 5 سالوں کے آڈٹ کا تحریری مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا علاوہ ازیں نیوز ون ٹی وی چینل میں ملازمین کو کم و بیش 8 ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حتمی لائحہ عمل بھی طے کر لیا گیا اور تمام ایشوز پر قانونی ماہرین سے مکمل مشاورت بھی کی گئی جس پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔