تازہ ترین
Home / آرٹیکل / ریڈیو پاکستان کے کنٹریکٹ ملازمین کا معاشی قتل عام کیوں؟ تحریر: رئیس تبسم کراچی

ریڈیو پاکستان کے کنٹریکٹ ملازمین کا معاشی قتل عام کیوں؟ تحریر: رئیس تبسم کراچی

ریڈیو پاکستان کے کنٹریکٹ ملازمین کا معاشی قتل عام کیوں؟ 

تحریر: رئیس تبسم کراچی

یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ 14اگست 1947ء کو یہ آواز نشریاتی لہروں کے ذریعے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پہلی مرتبہ سنی گئی۔ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے یہ آواز کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بے لوث اور شب روز انتھک جدوجہد اور لاتعداد قربانیوں کے بعد آج انہوں نے نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان سے قیام پاکستان کا اعلان سنا جسے سن کر ان کے رگ و پے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ وہ اب ایک آزاد اور فلاحی اسلامی ریاست میں سکون کا سانس لے سکیں گے۔

قیام پاکستان کے فوری بعد بھارت نے 1948ء میں دوسری جنگ کا آغاز کیا۔ اس نازک صورتحال میں ملکی اور غیر ملکی عوام کو با خبر رکھنے کیلئے کوئی دوسرا نشریاتی ادارہ موجود نہ تھا۔ اس موقع پر ریڈیو پاکستان نے اپنی مخصوص حکمت عملی اور پروگرامز کے ذریعے عوام کو باخبر رکھا۔ اسی طرح 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ریڈیو پاکستان کے تمام اسٹیشنز کے ملازمین اور افسران نے عوام کو پل پل کی خبروں سے نہ صرف آگاہ رکھا بلکہ محاذوں پر نمرد آزما افواج پاکستان کے جذبے کو ابھارنے کیلئے لہو گرما دینے والے نغمات اور دیگر پروگرامز شب و روز نشر کئے جس کے سبب دشمن کے حوصلے پست ہوئے اور اس نے جان بچا کر بھاگنے ہی میں غنیمت جانی۔

الغرض قیام پاکستان ہو یا جنگ کا میدان، ملکی وقار کا فروغ ہو یا بھائی چارگی کا درس، قدرتی آفات ہوں یا سیاحت کا فروغ، تعلیم ہو یا کووڈ-19 ہر میدان میں ریڈیو پاکستان کے ہر اسٹیشن کے ہر محکمے کے مستقل اور عارضی افسران اور ملازمین نے ہمیشہ مشکل وقت میں حکومت وقت کے ساتھ کھڑے ہوکر انہیں حالات حاضرہ اور ملکی اور غیر ملکی خبروں کے ذریعے باخبر رکھا ہے۔ جبکہ حکومت کی کارکردگی کو پاکستانی عوام سمیت دنیا بھر میں روشناس کروانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ریڈیو پاکستان کے 750 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو ملازمت سے سبکدوش کردیا گیا ہے۔ یہ 750ملازمین کی سبکدوشی نہیں بلکہ 750 خاندانوں کا معاشی قتل عام ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک جہاں بے روزگاری کا تناسب پہلے ہی بہت زیادہ ہے اس پر کورونا نے مزید وار کرتے ہوئے لاکھوں پاکستانیوں کو بے روزگار کردیا ہے اور پاکستان میں سرکاری یا پرائیوٹ ملازمت کا حصول ایک خواب ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے نازک موقع پر ریڈیو پاکستان کے کنٹریکٹ ملازمین کو بے روزگار کرنا نا قابل فہم ہے۔

اپنے لہو سے ہم نے جلائے تھے جو چراغ
محفل چمک اٹھی تو بجھائے گئے ہیں ہم

اکثر کنٹریکٹ ملازمین ایک سے زائد عشروں سے ریڈیو پاکستان کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات نہایت خوش اسلوبی، احسن طریقے، دیانتداری اور ذمہ داری کے ساتھ سر انجام دے رہے تھے۔ سبکدوش ہونے والے بعض ملازمین عمر کے اس حصے میں پہنچ گئے ہیں کہ جہاں سرکارتو درکنار پرائیوٹ ادارے بھی انہیں ملازمت دینے کو تیار نہیں ہوں گے۔

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو چاہئے کہ وہ ریڈیو پاکستان میں بے شک نئی تقرری نہ کریں مگر وہاں جو ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں انہیں ہرگز سبکدوش نہ کریں۔آج میڈیا وار کا دور ہے۔ پاکستان عالمی امن اور استحکام و بھائی چارگی کے فروغ کیلئے جو مثبت کردار ادا کر رہا ہے بھارتی میڈیا منفی پروپگینڈے کے ذریعے اسے سبوتاژ کرنے کی ناکام کرنے کی پوری کوشش کرتا رہا ہے۔ ایسے کڑے وقت میں ضرورت ہے کہ بھارتی میڈیا کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ریڈیو پاکستان کی افرادی قوت کو مزید بڑھایا جائے۔ کنٹریکٹ ملازمین کی اکثریت اپنے شعبوں میں مہارت رکھتی ہے لہٰذا ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کیلئے بہتر منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔

ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہر اسٹیشن اور شعبوں کے تمام ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران بشمول مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین، ڈیوٹی آفیسرز، اناؤنسرز اور فنکار وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو یقین دلاتے ہیں کہ ماضی کی شاندار روایات اور خدمات کو برقرار رکھتے ہوئے اس مملکت خداداد کی تعمیر و ترقی اور استحکام کیلئے ہمیں اگر اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کرنا پڑیں تو ہم ہمہ وقت حاضر ہیں کیونکہ ہماری شناخت ہمارا پیارا اور ریڈیو پاکستان ہے۔
کرو نہ فکر ضرورت پڑی تو ہم دیں گے
لہو کا تیل چراغوں میں ڈالنے کیلئے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے