کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ایپنک کی مرکزی قیادت نے کراچی یونین آف جرنلسٹس نظریاتی کے نام سے زیرگردش ایک پریس ریلیز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے جس کی ایپنک سختی سے تردید کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ جاری کردہ پریس ریلیز فوری طور پر واپس لی جائے۔ ایپنک کے مرکزی شعبہ نشر و اشاعت سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عمیر علی انجم نے گذشتہ روز مرکزی چیئرمین ایپنک عرفان علی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے ایپنک کی رکنیت کے لیے درخواست کی انہیں واضح طور پر بتایا گیا کہ ایپنک کے آئین کے تحت ایسا ممکن نہیں کیونکہ ایپنک پی ایف یو جے، یوجیز اور اخباری کارکنوں کی دیگر ٹریڈ یونینز کی مدر باڈی کے طور پر کام کرتی ہے اور کسی گروپ کو براہ راست رکنیت نہیں دی جاسکتی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حیرت انگیز طور پر جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے اس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ چیئرمین ایپنک نے عمیرعلی انجم سے جا کر ملاقات کی یہ ایک بیمار ذہن کی عکاسی ہے کیونکہ عملی طور پر اس کے بالکل الٹ ہوا بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے حوالے سے یہ غلط بیانی بھی کی گئی ہے کہ چیئرمین ایپنک نے عمیر علی انجم اور ان کے ساتھیوں کو ایپنک اور ان کی گروپ کے اشتراک کی کوئی یقین دہانی کرائی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پریس ریلیز کے ذریعے جو تاثر دیا گیا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ایپنک کا نام استعمال کرکے اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کی گئی۔