کراچی (نوپ نیوز) سری لنکا سے 2020 کے بعد سے پاکستان کے لیے مجموعی برآمدات 75 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جس میں 73 فیصد کے تناسب سے 53 ملین ڈالر کی برآمدات پاکستان سری لنکا آزاد تجارتی معاہدے کے تحت ہوئیں، جبکہ پاکستان کا تناسب صرف 3 فیصد رہا۔ پاکستانی سرمایہ کار ایف ٹی اے کے تحت سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار سری لنکا کے وزیر تجارت ڈاکٹر بندولا گونا واردانے نے سری لنکا کے 18 رکنی اعلیٰ سطح کے سرکاری و تجارتی وفد کے ہمراہ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر سری لنکا کے وزیر مملکت برائے علاقائی تعاون تھاراکا بالاسوریا، قونصل جنرل جگتھ ایبی ورنا، ڈائریکٹر جنرل اکنامک افیئرز ڈویژن وزارت خارجہ پروفیسر ڈاکٹر ساج یو مینڈس، چیئرمین سری لنکا اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن یوگیندر پریرا، محکمہ تجارت کے ڈائریکٹر جی ایل گنانتھیوا، کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، صدر کاٹی سلمان اسلم، کائیٹ سی ای او زبیر چھایا، سری لنکا میں تعینات کمرشل سیکریٹری اسماء کمال، سینئر نائب صدر ماہین سلمان، نائب صدر فرخ قندھاری، چیئرمین یو بی جی سندھ خالد تواب، سابق صدور سلیم الزماں، دانش خان، مسعود نقی، شیخ عمر ریحان، جوہر قندھاری، احتشام الدین، فرخ مظہر، مجید عزیز سمیت کاٹی کے ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سری لنکا کے وزیر تجارت ڈاکٹر بندولا گوناواردانے کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے حقیقی مواقعوں سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے۔ سری لنکا پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ 2005 میں طے پایا، تاہم ایف ٹی اے کے ثمرات حقیقی صلاحیت سے کم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یوٹلائیزیشن ریٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے ایکسپورٹرز پاکستان میں ٹیکسٹائل، الیکٹرانک مصنوعات اور ناریل کی اشیاء برآمد کر سکتے ہیں۔ سری لنکا کے وزیر تجارت نے مزید کہا کہ 2022 کے بجٹ میں کاروبار اور معاشی ترقی پر خسوصی توجہ دے رہے ہیں، جبکہ سری لنکا کو معاشی ترقی کیلئے زرمبادلہ کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر سری لنکا کے وزیر مملکت برائے علاقائی تعاون تھاراکا بالاسوریا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 500 ملین ڈالر کی تجارت توقع سے بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں کپڑے کی صنعت میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ پاکستان سری لنکا کا دیرنہ دوست ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں سری لنکا کا ساتھ دیا۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کیلئے اسپیشل اکنامک زون بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 5 آئی ٹی پارکس میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے شعبہ میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے، سری لنکا کے سیاح پاکستان میں بدھ مت کے قدیم اثار سے ناواقف ہیں۔ سری لنکا کے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی تاجر برادری متواتر سے یا کم سے کم ہر 3 ماہ بعد مشاورت کرے تاکہ دو طرفہ تجارت کے مواقع تلاش کر سکیں۔
اس سے قبل کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے سیالکوٹ واقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سری لنکا سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا اور پاکستان کی عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں اور اس طرح کے واقعات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ تقریب سے کاٹی کے صدر سلمان اسلم نے خطاب میں زور دیا کہ چاول، سبزیوں، پھلوں اور ادویات کی صنعت میں تجارت کے مواقع موجود ہیں۔ سلمان اسلم نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کر بڑھانے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں کاٹی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر کائیٹ کے سی ای او زبیر چھایا نے خطاب میں کہا کہ سری لنکا اور پاکستان دونوں ترقی پزیر ممالک ہیں اور دونوں کو زرمبادلہ کے ذخائر کا مسئلہ درپیش ہے، اس سلسلے میں سری لنکا اور پاکستان کرنسی سواپ سے فائدہ اٹھا کر مقامی کرنسی میں تجارت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم گورنر اسٹیٹ بینک کو قائل کریں گے۔ انہوں نے سری لنکا کے وزیر تجارت کو کورنگی صنعتی علاقے کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ تقریب سے سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمیشن میں کمرشل سیکریٹری اسما کمال، خالد تواب، مجید عزیز، ماہین سلمان، فرخ قندھاری نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے تجارتی وفود کے درمیان بزنس ٹو بزنس میٹنگز کا بھی انعقاد کیا گیا۔