کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی رہنما وسیم الدین شیخ نے کہا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے حکومت کی پول کھول دی۔ تین سال میں بہتری کے بجائے بگاڑ میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے احتساب کے ادارے کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ نا بااثر افراد کو نکیل ڈالی گئی اور ناہی فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا۔ کرپشن کے سسٹم کے خاتمے کے لئے کرپٹ اداروں کو از سر نو بنانا ناگزیر ہے۔عوام پولیس اور عدلیہ پر کیسے اعتماد کریں جب یہ دنیا کے کرپٹ ترین ادارے ہیں؟ موجودہ نظام سے نجات کے بغیر پاکستان کی ترقی ناممکن ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کے بہترین استعمال کے لئے میرٹ کا نظام اور ایماندار قیادت کو آگے لانا ہوگا۔ موجودہ نظام گورا شاہی کا تسلسل ہے۔ یہ سسٹم غریبوں کے لئے بنا ہی نہیں ہے اس لئے اس سے غریب کی فلاح ناممکن ہے۔ قوم کو جھوٹ خواب دکھا کر لوٹنے والے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں اپنا چہرہ دیکھ لیں۔ ملک میں واشنگ مشین کلچر نہیں چلے گا۔ صاف ستھرے افراد کو آگے بڑھنے کا موقعہ دینا ہوگا۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے مرکزی رہنما وسیم الدین شیخ نے عدلیہ اور پولیس کے اداروں کو کرپٹ ترین قرار دینے کی ایمنسٹی انترنیشنل کی رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ بین الااقوامی ریسرچ نے ثابت کر دیا کہ تبدیلی کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہواہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنے بنیادی دعووں کی طرف کوئی پیش رفت نہیں کر پائی۔ حکومت جاری رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، عمران خان قوم سے معافی مانگیں۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی بھی اپنے اور بیرونی مفادات کے لئے کی گئی، عوام کا کوئی بھلا نہیں ہوا۔ ملک میں بہتری محدود طبقے کی نمائندگی کے ذریعے ممکن نہیں ہے، عمومی صلاحیت کو راستہ دینا ضروری ہے۔ جس ملک میں ظالموں اور کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں ہوگا وہاں کمزور افراد کو تحفظ مل سکتا ہے نہ ہی حقوق۔ عوامی جمہوریت کے نام پر چند طاقتور خاندان ملک پر مسلط ہیں۔ لولی لنگڑی جمہوریت جاری نہیں رہ سکتی، عام لوگوں کے حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے۔ قائدانہ متبادل نظریہ کے مطابق نظام اگر اچھا ہو تو ایک اوسط درجے کا لیڈر بھی اسے چلا لے گا اور نظام خراب ہو تو بہترین لیڈر بھی مشکلات کا شکار ہوگا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی ساری توجہ نظام بنانے پر تھی اور اس کے لئے وہ ہمیشہ بہترین ٹیلنٹ تلاش کر تے تھے۔ سر خلافت کے بعد نظام وہی رہا افراد بدل گئے، نتائج سامنے ہیں۔ اصل چیز قیادت کا مفاد پرست یا وولینٹئر ہونا ہے اسی کے مظاہر سامنے آتے ہیں۔ حدود لاز کاجس قدر غلط استعمال ہورہا ہے اس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ نظام کی خرابیاں دور ہونی چاہئیں حالات بدلنے سے ترامیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ خلافت راشدہ وولینٹئر لیڈر شپ کی بہترین مثال ہے بعد میں اقتدار اور مفاد کے حریص آتے گئے۔