تازہ ترین
Home / آرٹیکل / معاشرہ نہیں ہم مرچکے ہیں!! تحریر: عقیل احمد راجپوت

معاشرہ نہیں ہم مرچکے ہیں!! تحریر: عقیل احمد راجپوت

!!معاشرہ نہیں ہم مرچکے ہیں

تحریر: عقیل احمد راجپوت

انسان سے انسان کا نوالہ چھینتے انسان۔ انسان سے انسان کی زندگی چھینتے انسان کہی آبرو تو کہی جمع پونجی چھینتے انسان بچیوں اور مردہ حالت میں بھی جسم کو نوچتے انسان۔ حد تو یہ ہے کے اب جانوروں کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے انسان کے بھیس میں چھپے اس معاشرے کے شیطانوں کی انسانیت ہی نہیں مری بلکہ ہمارا معاشرہ ہی دم توڑ گیا ہے بس اس لاش کو کفن دفن کر کے دفنا دینا ہی باقی رہ گیا ہے۔
میں اس معاشرے میں زندہ کیسے کہلا سکتا ہوں جہاں لڑکی سے زیادتی پر جرگہ دوسرے خاندان کی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے کا فیصلہ سنا دے جہاں مدرسے کا مفتی اپنے طالب علموں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتا ہو جہاں عزت لوٹنے والے وکٹری کا نشان بناکر عدالتی نظام پر سوالیہ نشان لگاتے ہوں۔
معاشرے کی بے حسی اور لاچارگی لکھنے والوں کے قلم سے آتش فشاں بن کر پھوٹ رہیں ہیں اور کیوں نا بنے معاشرے اور انسانیت کی ننگی لاش ہر روز کسی نہ کسی چوراہے پر لٹکتی ہوئی نظر جو آرہی ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان ملک کے ہر ایک مسند اقتدار پر فائز اس شخص سے جواب طلب کرتا ہے کہ میری پاک سر زمین پر موجود یہ انسان نما شیطان آخر کب اور کس طرح اپنی درندگی سے وطن عزیز کو پاک کریں گے وہ کون سا انقلاب ہوگا جو ملک کے ایوانوں کو جھنجھوڑ کر عوام کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں اور ناانصافیوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا، کون تاریخ کے اوراق کو بدل کر نئی تاریخ دیگا، کون عزت کو پامال کرنے والوں کے عبرتناک انجام دینے والوں کی صف میں اول نمبر کہلائے گا، دنیا میں ہر جگہ نفسا نفسی کا عالم ہے پاکستان پر بیرونی اور اندرونی سازشوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے مگر انسانیت اور انصاف کے راستے میں کونسے اقتدار کی راہداریوں پر سازشی عناصر کھڑے ہیں، کون ہے جو قانون سازی میں بھی ملک کے ایوانوں میں بیرونی اعلیٰ کار بن کر پاکستانی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان لوگوں کو ملک کے ساتھ ایسا کرنے سے کون اور کب روکے گا، کون چھوٹی چھوٹی زینب کو اپنے والدین سے بچھڑنے سے روکے گا، وہ کون سا حاکم وقت ہوگا جو رحمت اللعالمین (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سچا امتی بن کر معاشرے کے سوئے ہوئے ضمیروں کو خواب غفلت سے بیدار کرے گا نظام کی خرابیوں کو دور کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا معاشرے میں ہونے والی ان زیادتیوں کو حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوامی توجہ اور اپنے مثبت کردار سے اجاگر کریں غلط کاموں کو فوری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معلومات میں لائیں چھوٹی سی کوشش سے بہت سی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکتی ہے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے