کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) متحدہ علماء محاذ پاکستان میں شامل مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ نے کراچی کی بیشتر مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں سانحہ مینار پاکستان، سانحہ نور مقدم، لاہورمیں ماں بیٹی کے ساتھ ہونیوالی زیادتی، دادو میں خاتون کی لاش کے ساتھ جنسی درندگی اور پنجاب کے مدرسہ میں استاد کی طالبہ کیساتھ زیادتی جیسے انسانیت سوز شرمناک واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلام و ملک و قوم کے خلاف اور پاکستان کا اسلامی تشخص بدنام کرنے منظم سازش کا حصہ قرار دیا۔ علماء نے کہا کہ حالیہ غمناک واقعات اسلامی تعلیمات سے دوری اور حکمرانوں کا اسلامی قوانین کے نفاذ سے روگردانی کا نتیجہ ہیں۔
حکومت فی الفور مستقبل میں اس قسم کے سنگین و بھیانک جرائم کے خاتمے کیلئے اسلام کا نظام حدود نافذ کرکے مجرموں کو سرعام شرعی سزائیں دے۔ اسلام کی عدل و انصاف اور حقوق انسانی پر مبنی شرعی سزاؤں کے نفاذ سے نہ صرف جرائم کا مکمل خاتمہ ہوگا بلکہ ملک میں حقیقی معنوں میں احساس تحفظ اور امن کی فضا پیدا ہوگی اور احترام و تقدس خواتین کا جذبہ و سوچ پروان چڑھے گا۔ علماء نے اصلاح احوال کیلئے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ عورتوں کے نیم برہنہ اور غیر مہذب، غیر اخلاقی لباس پر پابندی عائد کی جائے اور بلاامتیاز خواتین کو اسکارف اور عبایا پہننے کا پابند کیا جائے۔ علماء نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک مملکت خداداد پاکستان میں عورتوں، خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات نے علماء مشائخ، عوام اور ہر طبقہ کے دل زخمی و غمناک کر دیئے ہیں ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہونیوالے ظلم دکھ درد اورغم میں برابر کے شریک ہیں۔ علماء نے خواتین سے درد مندانہ اپیل کی کہ وہ ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ، سیدہ عائشہ صدیقہؓ بنت رسولؐ خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراء جیسی مقدس پاکیزہ شخصیات کی سیرت و کردار کو اپنائیں اور مستوجب ِ جنت بنیں۔ اجتماعات سے مرکزی چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی، بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری، سرپرست مولانا انتظارالحق تھانوی، مرکزی صدر حجۃ الاسلام علامہ مرزا یوسف حسین، مرکزی نائب صدور سفیر امن خطیب اہل بیت علامہ علی کرار نقوی،علامہ سید سجاد شبیر رضوی، علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی، شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ ترکی، علامہ روشن دین الرشیدی، مفتی عبدالقادر جعفر، پیر عبدالماجد نقشبندی، علامہ قاری الیاس تنولی، علامہ حفیظ اللہ ہادیہ صدیقی، شیخ الحدیث مولانا انس مدنی، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی و دیگر نے خطاب کیا۔ دریں اثناء علماء نے کابل میں ہونیوالے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کااظہار کیا اور جاں بحق ہونیوالوں کیلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کیلئے صبر جمیل کی دعا کی