کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ کراچی میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں پچاس فیصد اضافہ انتہائی تشویشناک ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں؟ صوبائی حکومت کہاں سو رہی ہے؟ سات ماہ کی قلیل مدت میں اس قدر اضافہ شہریوں کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے۔ سندھ میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال کے بعد بلاول بھٹو کے پاس وفاقی حکومت سنبھالنے کے دعووں کا کیا اخلاقی جواز رہ جاتا ہے۔ حکومت جس اہتمام کے ساتھ شہریوں سے ٹیکس وصول کرتی ہے اسی اہتمام کے ساتھ ان کے جان و مال عزت آبرو کی حفاظت بھی ممکن بنائے۔ اگر بڑے شہروں میں موٹر سائیکلوں اور کاروں کی چوری کی وارداتوں کی روک تھام سنجیدگی سے کرنا مقصود ہے تو چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں سختی سے گاڑیوں کی اونر شپ کے کاغذات چیک کئے جائیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پڑوسی ممالک میں چھینی ہوئی اور چوری کی گئی گاڑیوں کی اسمگلنگ نہ ہو سکے۔ گاڑیوں کی چوری اور چھینا چھپٹی کی روک تھام کا ایک موثر ذریعہ یہ بھی بنایا جا سکتا ہے کہ عوام جس گاڑی کی چوری یا چھینا چھپٹی کی سی پی ایل سی پر اطلاع دیں متعلقہ تھانے کو اس کی ایف آئی آر درج کرنے کا پابند بنایا جائے۔ تھانوں سے رشوت کلچر کا خاتمہ کئے بغیر جرائم کا خاتمہ نا ممکن ہے یہ بات ہر صوبے کے آئی جی کو سمجھنا ہوگی، وڈیروں کے ہاتھوں غریب بچیوں کی عزتیں برباد ہو رہی ہیں حکومت اپنے بنیادی فرائض ادا کرنے ادا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں موٹر سائیکل چوری اور چھننے کی وارداتوں میں ہونے والے اضافہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائدنے مزید کہا کہ شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھن جانا معمول بن گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے شہر میں ڈکیتوں اور چوروں کا راج ہے اور قانون نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں ہے۔ غریب انسان لاکھوں جتن کر کے اپنی سہولت کے لئے موٹر سائیکل خریدتا ہے یا قسطوں پر لیتا ہے اور لٹیرے منٹوں میں اس سے سب کچھ چھین لیتے ہیں، جس کے بعد بازیابی کے لئے انسان صرف دھکے ہی کھاتا رہتا ہے۔ کمپیوٹرائزڈ سسٹم ہونے کے باوجود ہر تھانے میں سینکڑوں موٹر سائیکلوں کا کھڑے رہنا اور مالک کو نہ ملنا ناانصافی ہے۔ تھانوں میں یہ چوری اور لوٹی چھینی ہوئی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں کھڑے کھڑے سڑ جاتی ہیں۔ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے قیمتی مال و متاع کو لٹنے، چھننے اور چوری ہونے سے بچائیں۔ لٹیروں اور چوروں کے خلاف سخت قوانین بناکر ان کا نفاذ بھی یقینی بنایا جائے۔ جو بھی موٹرسائیکل یا کار ریکور ہو اسے اصل مالک تک پہنچانے کے لئے فوری ضروری کاروائی کی جائے۔