Home / اہم خبریں / مسنگ پرسنز ہمارے ملک کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں، مسنگ پرسنز مجرم ہیں تو ان پر عدالت میں شفاف مقدمہ چلایا جائے۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

مسنگ پرسنز ہمارے ملک کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں، مسنگ پرسنز مجرم ہیں تو ان پر عدالت میں شفاف مقدمہ چلایا جائے۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ مسنگ پرسنز ہمارے ملک کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ اگر مسنگ پرسنز مجرم ہیں تو ان پر عدالت میں شفاف مقدمہ چلایا جائے۔ محض شک کی بنیاد پر کسی کو غیر معینہ مدت تک قید میں رکھنا اور تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ظلم ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کے متعلق اذیت ناک کرب میں رہتے ہیں۔ ان کے زخموں پر مرہم بھرنے کا وقت آگیا ہے۔ ہم نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے اپنا ایک بازو گنوا دیا۔ اب ہمیں ہوش سے کام لینا چاہیے۔ وطن کے تحفظ کی خاطر جو جوان شہید ہوئے ہم انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی فیملیز کے لئے دل سے دعا گو ہیں۔

عافیہ صدیقی عالمی نظام عدل پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہیں کراچی سے محض شک کی بنیاد پر اغوا کیا گیا۔ اس بے بنیاد اغوا کی بنیاد پر آج تک کوئی بھی کچھ ثابت نہیں کر سکا۔ جس الزام میں انہیں سزا دی گئی اس کا مدعی، گواہ اور قاضی سب امریکہ ہے۔ جو بائیڈن نے جہاں فوج کے انخلا کا فیصلہ کیا وہیں اب سارے جنگی قیدیوں (پی او ڈبلیوز) کی رہائی کا فیصلہ کریں۔ ہمسایہ ملک جہاں اور بہت سے معاملات کو بحسن و خوبی نمٹا رہا ہے وہیں انہیں عافیہ کے معاملہ کو بھی حل کر نے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ عافیہ بگرام سے امریکہ کے حوالے کی گئی، وہاں کی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ عافیہ صدیقی کو رہا کروائے۔ عافیہ صدیقی کو جنگ کے دوران بے گناہ گرفتار کیا گیا۔ ان کا نام قطر مذاکرات میں نہ ہونا مسلم امہ اور اس کی لیڈر شپ کی بزدلی کا ثبوت ہے۔

شاہ محمود قریشی اس مسلے کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور اس معاملے میں صرف ٹال مٹول اور زبانی جمع خرچ سے کام لے رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت ایک بار پھر اتحادی افواج کو انخلا میں براہ راست مدد کر رہی ہے۔ یہ موقع ہے کہ عافیہ کی رہائی کے لئے بات کی جائے۔ عافیہ صدیقی اور مسنگ پرسنز کے معاملے میں اعلی عدلیہ از خود نوٹس لے۔ جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت ہر سال منائے جانے والے اس دن کا مقصد معاشرے اور متاثرہ خاندانوں کا یہ حق تسلیم کرنا ہے کہ وہ حقائق اور لاپتہ افراد کی موجودگی کے بارے میں جان سکیں۔ جبری گمشدگی کے ذریعے معاشرے میں دہشت گردی پھیلانے کی حکمت عملی نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پاکستانی معاشرہ کو ہی متاثر کیا۔ جبری گمشدگی کا گھناؤنا ترین پہلو متاثرین کو قانونی دفاع کے حق سے محروم کرنا ہے۔ جس کی وجہ سے لاتعداد بے گناہ اور معصوم افراد برسوں سے معروف اور غیر معروف مقامات پر جانوروں سے بدتر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ جن میں سے ایک پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور اس کا بیٹا سلیمان بھی ہے، جو اب تک لاپتہ ہے اور اس کی ماں امریکی جیل میں جرم بے گناہی کی پاداش میں اسیر ہے۔ ہم دنیا بھر کے تمام متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لئے بھی دعا گو ہیں جنہیں ریاستی جبر کا نشانہ بناتے ہوئے جبری طور پر غائب کیا گیا ہے۔

غیرقانونی حراست و جبری گمشدگی کا عمل غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔ حکومت پاکستان ملک بھر میں ہونے والی جبری گمشدگیوں کو سنجیدگی سے لے اور ان پر غیرجانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لائے۔ ان اقدامات میں ملوث افراد کے خلاف تفتیش نہ کرائے جانے سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ یا تو یہ حکومتی پالیسی ہے یا پھر ان جرائم کو نظرانداز کرنا پالیسی کا حصہ ہے۔ ایسے افراد کی بازیابی کے لیے جوادارہ بنایا گیا ہے اس کی کارکردگی کسی طور پر بھی بہتر نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ اس معاملے پر ٹھوس قانون سازی کی جائے۔ الطاف شکور نے حکومتِ پاکستان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک سے جبری طور پر گمشدگیوں کے واقعات کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے