تازہ ترین
Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی کے باہمی اشتراک سے پروفیسر ممتاز حسین کی یاد میں یادگاری لیکچر کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی کے باہمی اشتراک سے پروفیسر ممتاز حسین کی یاد میں یادگاری لیکچر کا انعقاد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کراچی کے باہمی اشتراک سے پروفیسر ممتاز حسین کی یاد میں لیکچر کا انعقاد کیا گیا جو ”یگانہ کے ادبی معرکے“ کے موضوع پر مبنی تھا، تقریب کی صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی جبکہ کلیدی خطبہ پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال نے پیش کیا، تقریب سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ ہر سال اس طرح محفل کا ہونا خوش آئند بات ہے۔

پروفیسر نجیب جمال نے بہت اچھا تحقیقی مقالہ پیش کیا، ایسے معرکہ جو لوگوں کی نگاہ سے اوجھل تھے ان کو منظر عام پر لائے، اس زمانے کے جدید نقاد میں ممتاز حسین کا نام بھی شامل ہے، وہ صرف نقاد ہی نہیں تھے بلکہ بڑے محقق بھی تھے، تحقیق میں جو انہوں نے کام کیے ہیں ان میں امیر خسرو پر ان کی کتاب بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ پروفیسر ممتاز حسین کا شمار صف اول کے نقادوں میں ہوتا ہے، انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز زمانہ طالب علمی میں افسانہ نگاری سے کیا، آپ کا پہلا افسانہ ”مصور کی شکست“ 1938ء میں شائع ہوا، غالب، امیر خسرو سے متعلق قابلِ قدر تنقیدی خدما ت انجام دیں، انہوں نے بتایا کہ پروفیسر ممتاز حسین اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے رہے، آپ کی تصنیفات میں نقدحیات، ادبی مسائل، نئی قدریں، نئے تنقیدی گوشے، انتخابِ غالب، باغ و بہار، بمعہ مقدمہ، ادب اور شعور، غالب ایک مطالعہ، امیر خسرو دہلوی، حیات اور شاعر، نقد حرف، حالی کے شعری نظریات ایک تنقیدی مطالعہ، ادب اور روحِ ازل شامل ہیں، تنقیدی نگاری کی روایات میں ممتاز حسین کا نام بڑا سرکردہ ہیں۔

پروفیسر نجیب جمال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے میرا تعلق بہت پرانا ہے، میں نے کراچی میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے ساتھ پی ایچ ڈی کا کام کیا اور ہر سال ادبی تقریبات میں شرکت کرتا تھا انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی نے پوری اردو دنیا میں جو دھوم بچا رکھی ہے وہ قابل تعریف ہے خاص طور سے عالمی اردو کانفرنس کا لوگ بڑی شدت سے انتظار کرتے ہیں، انہوں نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ پروفیسر ممتاز حسین کی شخصیت اتنی قد آور ہے خاص طور پر اردو تنقید کے میدان میں اتنی اہم ہے کہ ان کے کام، نام، ان کی کتابوں کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے، شاہد ممتاز نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا، تقریب میں ممتاز حسین یادگاری کمیٹی کے ڈاکٹر سلطان نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور ڈاکٹر نجیب جمال کو شیلڈ پیش کی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

Sindh Olympic Association⁠ Holds Grand Ceremony in Honour of Ms. Sana Ali

Karachi, (Zeeshan Hussain/Sports Reporter Sindh Olympic Association organized a prestigious and colorful ceremony at thعSindh …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے