کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) مالی سال کے اختتام سے قبل بلدیہ ضلع شرقی میں ترقیاتی فنڈز کی لوٹ مار کا سلسلہ مزید تیز ہوگیا، ایکسئن گلشن اقبال کی مبینہ سرپرستی میں بوگس ٹھیکوں کی خرید و فروخت کا بازار لگ گیا، بھاری نذرانوں کے عیوض 23 ترقیاتی کاموں کی فروخت کا انکشاف،14 کام روک کر بقیہ 9 کام ٹھیکیداروں کے حوالے، نہ ٹینڈر نہ باکس، ٹاس کرو ٹھیکہ لو پالیسی سے ڈی ایم سی کا فنڈ ٹھکانے لگایا جانے لگا، مقامی کنٹریکٹر کامران صاحبزادہ نے نیب، اینٹی کرپشن اور دیگر تحقیقاتی اداروں سمیت محکمہ بلدیات سندھ سے فوری نوٹس اور تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق رواں مالی سال کا اختتام قریب آنے سے قبل بلدیہ ضلع شرقی میں سرکاری فنڈ کی لوٹ مار شروع کردی گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع شرقی کے گلشن اقبال زون میںٹھیکوں کی خرید و فروخت عروج پر پہنچ چکی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسئن گلشن اقبال زون اقبال ملاح کی جانب سے 23 ترقیاتی کاموں کی این آئی ٹی طلب کی گئی تھی تاہم اس سلسلے میں ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ کاموں کے پہلے ٹینڈر ڈاکومنٹس دینے سے افسران نے انکار کیا اور احتجاج پر بمشکل ڈاکومنٹس دیئے گئے تاہم بعدازاں اپنے مخصوص کنٹریکٹرز کے ساتھ مل کر 23 کاموں میں سے 14 کام روک کر بقیہ 9 کام ٹھیکیداروں کے حوالے کردیئے گئے تاکہ ٹاس کر کے ٹھیکیدار کاموں کی بندر بانٹ کرسکیں، اس سلسلے میں نمائشی ٹینڈر اوپن کرنے کا ڈرامہ رچایا گیا،اس سلسلے میں مقامی سینئر کنٹریکٹر کامران صاحبزادہ سے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ضلع شرقی میں ٹھیکوں کی خرید و فروخت کا جمعہ بازار لگا دیا گیا ہے، نہ ٹینڈر ڈالے جا رہے ہیں اور نہ باکس رکھا جا رہا ہے، ضلع شرقی میں ٹاس کرو ٹھیکہ لو پالیسی جاری ہے جبکہ مبینہ 10 سے 15 فیصد کمیشن پر ٹھیکے فروخت کئے جارہے ہیں جس میں سے بیشتر کام صرف فائلوں تک محدود ہیں، کنٹریکٹرز نے اعلی تحقیقاتی اداروں سے ضلع شرقی میں کئے گئے تمام ترقیاتی کاموں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔