کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر سلیم الزماں نے حکومت کی جانب سے لیکویفائڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کو مسترد کر دیا، انہوں نے کہا کہ کابینہ میں ایل پی جی پالیسی پر بحث کو مؤخر کرتے ہوئے کمرشل اور گھریلو صارفین کیلئے قیمتوں میں کمی کی جائے۔ صنعتیں پہلے ہی کورونا سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات سے نہ نکل سکیں کہ انہیں گیس کی قلت اور بندش کا سامنا کرنا پڑا جس سے صنعتوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ سلیم الزماں نے کہا کہ صنعتکار متواتر گیس اور توانائی سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے کے متحمل نہیں۔ گرمیوں میں گیس کی شدید بندش، بجٹ میں ایل این جی پر سیلز ٹیکس اور اب پیٹرولیم مصنوعات بشمول ایل پی جی کی قیمتوں کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچانے سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ صدر کاٹی نے کہا کہ پیٹرول، سی این جی اور ایل پی جی کی قیمت میں حالیہ اضافے سے ایکسپورٹرز کی برآمدی سامان کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری ان حالات میں مہنگی ایل پی جی لینے کی متحمل نہیں اس سے پیداواری لاگت ناگزیر حد تک قابو سے باہر ہوگی جو انڈسٹری کو تباہی کے دہانے کی طرف دھکیلنے اور حکومت کے کاروبار میں آسانی کے اقدام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتکار متعدد بار ہر فورمز پر اپنی آواز بلند کرچکے ہیں کہ حکومت ان کی مشکلات میں کمی کیلئے اقدامات کرے نا کے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایل پی جی میں اضافہ کو واپس لے ورنہ صنعتیں بند ہوجائیں گی۔ سلیم الزماں کا کہنا تھا کہ ان نامصائب حالات کے پیش نظر صنعتکاروں کی اکثریت انڈسٹری بیرون ملک منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں، اگر ایسا ہوا تو بے روزگاری اور ملکی ایکسپورٹ تشویشناک صورتحال سے دوچار ہوں گی۔ جس سے معیشت کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ صدر کاٹی نے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر پیٹرولیم و توانائی حماد اظہر سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین صورتحال پر فوری نوٹس لیں اور انڈسٹری کو تباہی سے بچائیں۔ صنعتوں کی ترجیحی بنیادوں پر پیداواری لاگت میں کمی کیلئے سہولیات فراہم کریں تاکہ پیداواری لاگت میں کمی سے انڈسٹری درپیش مشکلات سے نبرد آزما ہوسکے۔