کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اور میٹرک بورڈ کی نااہلی کی وجہ سے امتحانات مذاق اور پرچے لیک ہونا معمول بن گیا ہے۔ بورڈ کے تمام انتظامات کے ڈھول کا پول کھل گیا، نقل بھی ہوئی اور پرچے لیک آؤٹ بھی ہوئے۔ اس طرح کی بدعنوانی خطرے کی گھنٹی ہے کہ سندھ میں تعلیم و تدریس کا نظام شدید بگاڑ کا شکار ہے۔ اس بگاڑ کی وجہ پی پی پی کی صوبائی حکومت اور بورڈ کے اہلکار و اعلی افسران ہیں۔ پورا ملک کرپشن کی نذر ہو گیا ہے۔ جب اس طرح کے تعلیم یافتہ لوگ پاکستان میں پیدا ہوں گے تو پاکستان کا حال اور مستقبل کیسا ہوگا؟ یہی لوگ سول سروس میں جاکر بڑے بڑے فیصلے کرتے ہیں حالانکہ ان میں کیپیسٹی ہی پیدا نہیں ہوتی ہے۔ اول تو نصاب ہی ناقص اوپر سے مرے کو مارے شاہ مدار نقل سے رہی سہی کسر پوری ہو جاتی ہے۔ ایسے گریجویٹس ایک مضمون لکھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے ہیں اس لئے تحلیل شدہ ایس پی ایس سی نے امتحانی سلسلہ بند کرکے انٹرویو لینے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ وہ وقت دور نہیں جب سی ایس ایس کے امیدوار اردو لکھنے کے لئے اسسٹنٹ کی سہولت مانگیں گے۔ پاکستان کو تعلیم و تربیت والے لوگ چاہئیں، ڈگری والے نہیں۔ تعلیم دشمن کرپٹ سندھ حکومت نے میٹرک اور انٹر بورڈ کو تباہ کر دیا ہے۔ اب ہائر ایجوکیشن کے نظام کو بھی زمیں بوس کرنا چاہتی ہے۔ پرچہ تاخیر سے شروع ہونے اور آؤٹ ہونے کے ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کر کے سزادی جائے تاکہ ایسے واقعات کا تدارک کیا جا سکے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں میٹرک بورڈ کے تحت ہونے والے امتحانات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ سندھ میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پبلک سیکٹر کے تعلیمی ڈھانچے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ میٹرک بورڈ کے تحت لئے جانے والے فزکس اور ریاضی کے پرچے ملی بھگت سے آؤٹ کئے گئے جبکہ بورڈ انتظامیہ کی نا اہلی کے سبب فزکس کا پرچہ ساڑھے دس بجے تک بھی امتحانی مراکز تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ سندھ حکومت تعلیم دشمنی کے ذریعے سندھ کے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہے۔ طلبہ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ حکومت تعلیمی بجٹ میں بھی مسلسل کٹوتی کیے جارہی ہے اور مختص کیا گیا بجٹ بھی پورا نہیں دیا جاتا، جس کی بنا پر اسکالر شپ پروگرامز بند ہوگئے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں 74 سال گزرنے کے بعد بھی کوئی قابل ذکر تعلیمی نظام متعارف نہیں کروایا جا سکا۔ بڑے بڑے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے تعلیم کو منافع بخش کاروبار سمجھ کر یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کی چینیں کھول لی ہیں۔ ایک سازش کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیم کو تباہ کر دیا گیا۔ یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ سندھ سرکار کی تعلیم دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔