Home / اہم خبریں / کراچی آفت کا شکار ہے، پچاس سال سے مسلط حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ طارق چاندی والا

کراچی آفت کا شکار ہے، پچاس سال سے مسلط حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ طارق چاندی والا

کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ کراچی آفت کا شکار ہے اور پچاس سال سے مسلط حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ مسلسل بارشوں اور انتظامیہ کی نا اہلیوں نے کراچی کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔پیپلز پارٹی بے حسی کا شکار ہے، شہریوں کی مشکلات کا انہیں کوئی احساس نہیں ہے۔ مراد علی شاہ بارشوں میں گھومتے ہوئے فوٹو اور ویڈیو سیشن کرنے کے بجائے بتائیں کہ عملی طور پر کیا اقدامات کئے گئے؟وزیر اعلیٰ کی دلیل یہ ہے کہ کراچی برسات کے لئے ڈیزائن ہی نہیں ہوا ہے۔ اس پر اہل کراچی ہنسیں یا روئیں؟ آپ پندرہ سال سے مسلسل حکومت میں ہیں۔ آپ نے ڈیزائن کی تبدیلی کے لئے کیا اقدامات کئے؟ اپنی نااہلیوں کو چھپانے کے لئے صوبے بھر میں حکومت نے لوگوں کو گھر میں رہنے کا مشورہ دیا اور عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔ اردو بازار میں کروڑوں روپے کی کتابیں سیلاب کی نظر ہو گئیں۔ بہت سی مارکیٹوں میں سیلابی پانی داخل ہوا جس کے نتیجے میں اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ مرتضی وہاب بجائے حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے ٹی وی پر آرٹیکل 63اے کی غلط سلط تشریح کرتے رہے۔

مزید پڑھیں: سید طارق ہدا کی چیئرمین کے پی ٹی تعیناتی خوش آئند ہے۔ ایس ایم منیر سرپرست اعلی کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری
https://www.nopnewstv.com/chairman-of-karachi-port-trust ‎

پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری بیان میں شدید بارشوں اور سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے شہر کی ابتر حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس بدھو کا آوا بن چکا ہے جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ روزانہ مزدوری کرنے والے اور ٹھیلوں پر مال فروخت کرنے والے بھوک اور بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکومت نے ان کو ریلیف دینے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟ سارا کلفٹن اور ڈیفنس پانی میں ڈوب گیا۔ کیا یہ وزیر اعلی سندھ کی عمل داری میں نہیں آتا ہے؟ بڑی شاہراہوں کو حکومت نے غیر اعلانیہ طور پر بند کر دیا ہے۔ کراچی میں بد ترین ٹریفک جام ہے۔ کسی متبادل راستے کا بھی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پبلک کے ٹیکس کے پیسوں سے بنی ہے۔ اس کی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ تمام بائی پاس پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ نیپا اور ناگن چورنگی کے اطراف میں دریا بن گئے ہیں۔ سندھ کو وفاق کی طرف سے جو سترہ سو ارب ملتے ہیں وہ کہاں خرچ ہوتے ہیں؟۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے