تازہ ترین
Home / اہم خبریں / جوبلی مارکیٹ منہدم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، چار سو دوکانیں گرا کر ہزاروں افراد کا روزگار تباہ کردیا گیا۔ طارق چاندی والا رہنما پی ڈی پی

جوبلی مارکیٹ منہدم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، چار سو دوکانیں گرا کر ہزاروں افراد کا روزگار تباہ کردیا گیا۔ طارق چاندی والا رہنما پی ڈی پی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا اور سینئر رہنما رہنما اکرم آگریا نے کہا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں 60 سال سے قائم جوبلی مارکیٹ منہدم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ چار سو دوکانیں گرا کر ہزاروں افراد کا روزگار تباہ کردیا گیا۔ متبادل جگہ فراہم کئے بغیر عمارتوں کا انہدام ظلم ہے۔ کراچی میں ماسٹر پلان پر کہاں عمل در آمد ہو رہا ہے کہ اس کی خاطر لاکھوں لوگوں سے ان کا روزگار چھینا جا رہا ہے۔ کراچی میں تعمیر کی بجائے تخریب کا عمل جاری ہے۔ انتظامی افسران عمارتوں کی تعمیر کے وقت آنکھیں بند رکھتے ہیں، ساٹھ سال بعد انہیں ہوش آتا ہے کہ یہ غیر قانونی ہیں۔ ایسے نااہل افسران کو سزا دینے کی بجائے جمے جمائے کاروبار تباہ کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ کورونا اور غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے پہلے ہی دو کروڑ لوگ بیروزگاری کا شکار ہیں۔ مزید لوگوں کو بیروزگار کرکے حکومت کون سے اہداف حاصل کر رہی ہے؟ حکومت بلڈر مافیا کی معاونت کر رہی ہے۔ متبادل فراہم کئے بغیر عمارتیں گرانے کا عمل بند کیا جائے۔ بنی بنائی عمارتیں تباہ کرنے کے بجائے سرکاری تحویل میں لے کر کرائے وصول کئے جا سکتے ہیں، قیمتی اثاثے بچا کر ریونیو میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ گرائی گئی جوبلی مارکیٹ کے متاثرین کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ تجاوزات کے خاتمہ کے نام پر تاجروں پر ظلم کی مذمت کرتے ہیں۔ گرفتار کئے گئے تاجروں اور دوکانداروں کو فوری رہا کیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں جوبلی مارکیٹ میں چار سو کے لگ بھگ دوکانوں کو تجاوزات کے نام پر مسمار کئے جانے اور سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے بجھا دیئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا اور سینیئر رہنما اکرم آگریا نے مشترکہ بیان میں مزید کہا کہ عدالت عظمیٰ نے کراچی شہر کی روایتی خوبصورتی اور رونق بحال کرنے کے لئے تجاوزات ختم کرنے کی جو ہدایات جاری کیں، ان کی آڑ میں صوبائی و شہری انتظامیہ نے شہر کے بیشتر علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ جوبلی مارکیٹ میں دوکانداروں کی جانب سے احتجاج کرنے پر پولیس نے بے دریغ لاٹھی چارج کیا گیا، گرفتاریاں کی گئیں، جس کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں گے۔ جب سپریم کورٹ نے واضح طور پر آرڈر دے دیا تھا کہ توڑ پھوڑ سے قبل ان دوکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے تو قانون کے رکھوالے خود قانون کیوں توڑ رہے ہیں؟ آج ایک بار پھر اتنے سارے دوکاندار ایک ساتھ بیروزگار ہوگئے ہیں، ان کے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داری کون لے گا؟ کروڑوں روپے کے ٹیکسز ادا کرنے والوں کے ساتھ اس قدر برا سلوک کیا گیا ہے۔ ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی، ان کے حق میں کسی نے آوز نہیں اٹھائی۔ پاسبان متاثرہ دوکانداروں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ متاثرین کو کاروبار کے لئے فوری متبادل جگہ فراہم کی جائے۔ اس سے قبل بھی تجاوزات کے نام پر شہر بھر میں توڑ پھوڑ کے دوران تاجروں کے مال کی منظم لوٹ مار ہوئی، تاجروں پر ظلم کے پہاڑ گرئے گئے، چھوٹے پتھارے دار اور دکاندار بڑے پیمانے پر بے روزگار ہوگئے ہیں۔ بہت سے گھروں میں فاقوں تک نوبت جاپہنچی ہے۔ یہ کراچی کی معیشت کو برباد کرنے کی سازش ہے۔ عدالتی اہلکار خود عدالتی احکامات کی نفی کر رہے ہیں۔ تجاوزات کے نام پر جن لوگوں کی دوکانیں مسمار کی جارہی ہیں انہیں دوسری جگہ کاروبار کے انتظامات فراہم کئے جائیں۔ بے ضابطہ گھروں اور آبادیوں کو بسانے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ کے ایم سی افسران کے ساتھ اس سیاسی قبضہ مافیا کو بھی بے نقاب کیا جائے جس نے تجاوزات قائم کروائیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے