کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے اپنے جاری کردہ وڈیو بیان میں کہا ہے کہ ایک وقت تھا جب کراچی میں بارشیں آتی تھی عوام خوشیاں مناتے تھے، سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آج عوام پریشان ہوجاتے ہیں، کراچی کے کئی علاقے نالوں کے الٹنے سے ڈوب جاتے ہیں، کراچی کے نالوں کو ٹھیک کرنا سندھ حکومت کی زمہ داری تھی، 13 سالوں تک سندھ حکومت نے کراچی کی عوام کے لئے کچھ نہیں کیا، لیکن گزشتہ برس وزیر اعظم نے این ڈٰی ایم اے کے ذمہ داری لگائی، کراچی ٹرانسمشن پلان کے تحت وفاقی حکومت کے ذمہ گجر نالہ، محمود آباد نالہ کورنگی نالے آئے، سندھ حکومت نے کراچی کے 41 نالے صاف کرنے کا زمہ لیا تھا، 500 سے زائد نالے ڈٰی ایم سی کے سندھ حکومت نے صاف کرانے تھے، این ڈٰی ایم اے کے زمے جو نالے آئے ان کا کام مکمل ہوچکا ہے، نالوں کی انکروچنٹ متاثرین کو دو سال کا کرایہ وفاق نے ادا کیا، نالوں پر رہنے والوں کو 15 ہزار کے حساب سے ایڈوانس رقم مل چکی ہے۔ 1325 ملین کرائے کی مد میں 24 ملین یوٹلٹی کی مد میں وفاق نے ادا کر دیئے گئے ہیں، وفاق نے نالوں پر اربوں روپے خرچ کر دیئے ہیں،41 نالوں کی صفائی کی ذمہ داری سندھ حکومت کی تھی، 500 ڈٰی ایم سی کے نالوں کی صفائی بھی سندھ حکومت نے کرنی تھی، کراچی میں یہ نالے ٹوٹے تو سندھ حکومت زمہ دار ہوگی، سندھ حکومت کہتی ہے کہ بحریہ کے پیسے آئیں گے تو نالے صاف کروائیں گے، سندھ حکومت نے ایک بھی کراچی کا نالا صاف نہیں کروایا ہے۔ دوسری جانب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ کی اسلام آباد میں ملاقات کی، ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، حلیم عادل شیخ نے وفاق اور صوبوں میں مزید روابط مستحکم کرنے کے لئے تجاویز پیش کیں، حلیم عادل شیخ نے چیئرمین سینٹ کو سندھ کے پارلیمینٹرین کی طرف سے سندھ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے دعوت قبول کرتے ہوئے جلد سندھ کا دورہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اس موقعہ پر کہا وفاقی حکومت تمام صوبوں کیساتھ ہر ممکن تعاون کر رہی ہے۔