میرا دین اسلام ایک مکمل دین ہے۔ جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں راہنمائی کرتا ہے۔ انسانیت کے لیے اعلیٰ معیارِزندگی کو فروغ دیتاہے۔ اسلام کوئی جبری دین نہیں ہے ۔اپنے پیروکاروں کو اپنی حدود میں رہ کر مکمل آسانی اور آزادی فراہم کرتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم دینِ اسلام کے پیروکار اور امتِ محمدیہ کا دم بھرنے والے ہیں اور ناموسِ آقا پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں مگر کیا کبھی ہم اپنے ایمان کو ٹٹولتے ہیں؟ کیا ہم سنتِ نبویﷺ پر عمل کرتے ہیں؟
"مسلمان وہ ہے جو اللہ کو مانے اور مومن وہ ہے جو اللہ کی مانے۔ بصد معزرت مگر ہم مسلمان تو ہیں پر مومن نہیں۔
ہم اپنی انا میں خدا کے احکام اپنے پیارے نبی کی تعلیمات، شریعت کے اصول اور طرزِ زندگی بھول چُکے ہیں۔ بحیثیت والدین اپنی اولاد کی تربیت وتعلیم، ضروریاتِ زندگی اور خواہشات پوری کرنے کے لیے ہر مشکل سے دوچار ہوتےہیں۔ لیکن وہی اولاد جب پسند کی شادی کی خواہش کا اظہار کرتی ہے تو کیوں ہم اُسے انا کا مسئلہ بناتے ہیں اولاد کو نافرمان اور بے حیا تصور کر بیٹھتے ہیں ہم کیوں ذات پات میں الجھے ہوئے ہیں۔والدین کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے مگر ان کے کچھ فیصلوں کی وجہ سے اولاد مُسکرانا بھول جاتی ہے والدین کی ضِد اولاد کی زندگی بر باد کر دیتی ہے۔ آخر ہم کس مذہب کے پیروکار بنے ہوئے ہیں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بہت عرصہ برِ صغیر پاک و ہند میں رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم نے ہندوں کلچر اپنا لیا ہے اور وہ اس قدر ہم میں رچ بس گیا ہے کہ ہم مذہب اور کلچر میں فرق کی تمیز بھول گئے ہیں۔ ہندو مذہب میں ذات پات کا تصور ہے۔ وہ شودروں کو سب سے گھٹیا ذات مانتے ہیں یاد رہے ذات پات دیکھ کر شادی کرنا ان کا کلچر ہے اور ہم اس کلچر کے پیچھے لگے ہیں ۔ جس کی وجہ سے والدین اپنی نوجوان اولاد کو کھو بیٹھتے ہیں۔ ہر انسان کی دلّی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا جیون ساتھی اس کی پسند کا ہو۔ جب کہ بغیر پسند کی شادی زندگی بھر کا عذاب بن جاتی ہے۔ اور اگر من پسند شادی ہو جائے۔تو دنیا میں ہی جنت مل جاتی ہے ۔ من پسند شادی میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں بہت سے لوگوں کو منانا پڑتا ہے کیونکہ سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ پسند کی شادی نہ ہونے پر خودکشی عام ہو رہی ہے یا نوجوان نسل کورٹ میرج کر کے اپنے والدین سے مُکمل قطع تعلق کر لیتی ہے دونوں صورتحال انتہائی تشویشناک ہیں۔ خاندان تباہ ہوتے ہیں اور نکاح کے اصل مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔ نکاح محض چار حروف کا مجموعہ نہیں ہے ایک عہد ہے اپنے آپ سے، اپنے ہمسفر سے، دو گھرانوں سے، اپنے رب سے لہذا اس رشتے کا احترام کریں یہ دنیا کا سب سے پاکیزہ اور سب سے نازک رشتہ ہے۔
شریعت نے حق دیا ہے کہ قوم نہ دیکھے اگر لڑکی راضی ہے تو اس کی خواہش کو ترجیح دیں۔ غیر قوم میں کر سکتے ہیں اپنوں میں کرنا واجب نہیں ہے۔
"زبردستی نکاح ظلم ہے قیامت کے دن اس کا جواب دینا پڑے گا”
جہاں محبت ہو وہاں والدین نکاح کر دیں۔
"شریعت کا حکم ہے بچی کی چاہت کو پہلے رکھا جائے اس کی مرضی کے بغیر کسی کو اس پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہے”
ایک لڑکی غریب صحابی سے نکاح کرنا چاہتی تھی مگر اس کے چچا نے اس کا نکاح مالدار انسان سے کر دیا حضور ﷺ کو جب علم ہوا تو اس نکاح کو کالعدم قرار دے کر وہ نکاح ختم کرا کے اس غریب صحابی سے کروادیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا "دین دیکھو، اخلاق دیکھو اور رشتہ کر دو” اگر بچہ اپنی پسند کا اظہار کر دے تو اِسے نافرمانی نہ سمجھیں اور اگر بچی اپنی پسند کا اظہار کر دے کہ یہاں میری شادی کر دو تو اُسے بے حیائی نہ سمجھو”
"نکاح اور ایمان کے سوا کوئی عبادت ایسی نہیں جو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے اب تک جائز ہواور جنت میں بھی باقی رہے”
رسول ﷺ نے فرمایا "نکاح میری سنت ہے جو شخص میری سنت سے اعتراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں”
جب جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس اللہ کا پیغام لےکر آئےکہ حضرت فاطمہ کا نکاح اللہ پاک نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقرر کیا ہے تو رسول ﷺ پیغام لےکر گھر چلے گئے اور فاطمہ سے رضا مندی لی۔ اس کا مقصد ہر گز یہ نہیں تھا کہ معاذاللہ اللہ کے فیصلے پر نبی ﷺ کو اعتراض تھا نہ ہی فاطمہ ایسی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کرتی اس کا مقصد سُنت قائم کرنا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے بھی رسول ﷺ کو اپنی سہیلی کے ذریعے نکاح کا پیغام بجھوایا۔ والدین سے درخواست ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی اُس کا رشتہ مقرر کرنے سے پہلے ماں، بہن یاقریبی دوست کے ذریعے رضا مندی لیں ۔ اگر کوئی پسند کی شادی کا اظہار کریں تو خدا پر توّکل کرتے ہوئے اس کا نکاح مقرر کر دیں اور اپنی دعاؤں کے سائے میں بیٹی کو رخصت کریں اور دعاؤں کے گُلدستوں سے اپنی بہو کو خوش آمدید کریں۔ تا کہ آپ کی اولاد خوشگوار زندگی گزار سکیں اور اپنے دین کے ماننے والے بنے نا کہ کلچر کو اپنا کر اپنی نوجوان اولاد کی موت کا باعث بنے۔