تازہ ترین
Home / اہم خبریں / موجودہ نالائق وفاقی حکومت کی نالائقی کا بوجھ ان کے اتحادی اٹھا کر جاسکتے ہیں تو یہ ان کی ہمت ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی

موجودہ نالائق وفاقی حکومت کی نالائقی کا بوجھ ان کے اتحادی اٹھا کر جاسکتے ہیں تو یہ ان کی ہمت ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی


کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے آئندہ4 سے 5 ماہ میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوجائیں گے۔ موجودہ نالائق وفاقی حکومت کی نالائقی کا بوجھ ان کے اتحادی اٹھا کر جاسکتے ہیں تو یہ ان کی ہمت ہے لیکن اصل چینلز پی ٹی آئی کوان کے اتحادیوں سے نہیں بلکہ اپنے اندر کے لوگوں سے ہے۔ اس نالائق اور نااہل حکومت کی نالائقی کے باعث 22 کروڑ عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ سردی کے دنوں میں لوڈ شیدنگ ہو رہی ہے اور گیس کراچی جیسے شہر میں بھی نایاب ہوگئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کا کیا معاہدہ ہوا ہے وہ آفیشل طور پر نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ یہ خوشخبری ضرور وزیر خزانہ نے دی ہے کہ ہم بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی ایما پر کر رہے ہیں لیکن جتنا انہوں نے کہا ہے اتنا نہیں کر رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کاغذوں میں ضرور خود مختار ہے لیکن اسے حکومت یا کچھ حکومتی ادارے کنٹرول کر رہے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ جو پی سی بی آئین کے تحت بھی خود مختار ہے لیکن اس کو بھی وزیر اعظم ہی کنٹرول کرتا ہے۔ اب نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف کس طرح کی خود مختاری اسٹیٹ بینک پر چاہتا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو متنازعہ قانون سازی کروانا حکومت چاہتی تھی اس میں اس کو اپنے ہی اندر کے لوگوں سے چیلنز ہے۔ بلدیاتی انتخابات کروانا ہمارے لئے ضروری ہے اس میں کوئی منصوبہ بندی والی بات نہیں ہے۔ تاخیر جو سندھ میں ہو رہی ہے اس کی ذمہ داری سندھ حکومت کی نہیں ہے کیونکہ مردم شماری وفاق نے کروانی تھی اور پارلیمنٹ کے پاس سندھ حکومت کا کیس موجود ہے۔ الیکشن کمیشن نے جلد از جلد انتخابات کا کہا ہے اور ہم نے قانون سازی کا کام شروع کر دیا ہے اور اس میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے اسمبلی کی منظوری ضروری ہے۔ ہم تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ایکسپو سینٹر کراچی میں فرنیچر لیونگ ایکسپو کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں اس نمائش کے انعقاد پر ان کے آرگنائزر اور اس نمائش میں حصہ لینے والی تمام برانڈ کی کمپنیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ پاکستان میں ڈالر پہلی مرتبہ ڈالر 175 روپے نہیں ہوا بلکہ یہ دوسری بار ایسا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک کا بیان بہت غیر ذمہ دارانہ تھا کہ ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو ایکسپورٹرز کو فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر اس وقت پاکستان کی تاریخ میں مہنگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پیٹرول کیساتھ ڈیزل۔ بجلی۔ کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں اور آج خبر دیکھی کہ گیس محدود وقتوں میں دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس نالائق حکومت کی نالائقیوں کے باعث آج کراچی جیسے شہر میں بھی گیس کا بحران ہے اور خود میرے اپنے گھر میں میں سلینڈر استعمال کر رہا ہوں اور اگر شہروں کی یہ حالت ہو تو پھر چھوٹے علاقوں اور دیہاتوں میں ٹھنڈ میں کیا حال ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کاغذوں میں خود مختار ہے اور جہاں تک میری معلومات ہیں اسٹیٹ بینک اور پی سی بی خود مختار ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کو یا تو حکومت یا ان کے ماتحت کچھ ادارے چلا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نالائقی کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں، جو اتحادیوں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ راضی ہوجائیں گے۔ لیکن اصل مشکلات اس بار پی ٹی آئی کو اپنے اندر کے لوگوں سے خطرہ ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی انتخابات کروانا چاہتے ہیں تاخیر ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت بھی ہے کہ نئی حلقہ بندیاں ہونگی تو ہی انتخابات ہونگے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ کے پاس سندھ حکومت کا یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون میں ترمیم کا مسودہ تیار کیا ہوا ہے۔ قیمتوں میں عدم استحکام کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پرائس کنٹرول کے محکمے ضرور صوبوں کے پاس ہیں، لیکن اگر ڈیزل۔ پیٹرول کا بحران ہوگا تو سندھ بھی اس سے متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور ان کے وزراء کی جانب سے ہر چیز کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ڈالنا ٹھیک نہیں ہے قبل ازیں نمائش کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کراچی میں تواتر کیساتھ نمائش ہو رہی ہیں اور کراچی کا جو امیج تھا اس میں بہتری آرہی ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

پنجاب کے سراپا احتجاج ملازمین کا اپنی ماں کے نام اہم پیغام

ساہیوال (ایڈیٹر نیوز آف پاکستان ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) پنجاب کے سراپا احتجاج ملازمین اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے