تازہ ترین
Home / آرٹیکل / تھالی کا بیگن!!!! تحریر: سہیل یعقوب

تھالی کا بیگن!!!! تحریر: سہیل یعقوب

تھالی کا بیگن!!!! تحریر: سہیل یعقوب

تھالی کا بیگن کرشن چندر کا ایک فصیح (کلاسک) افسانہ ہے جس میں لوگوں کی نفسیات کو بہت شاندار انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ ایک ہی چیز (بیگن) میں مسلمانوں، ہندوؤں اور عیسائیوں کو وہ نظر آتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتے تھے اور دکھانے والے کا فائدہ بھی اسی میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں اس کی ایک مثال آئین پاکستان ہے۔ تھالی کا بیگن ایک محاورہ بھی ہے جس کا مطلب ہے کہ تھالی میں رکھا بیگن تھالی کے ڈھال کے رخ لڑھک جاتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص یا ادارہ حالات کا رخ دیکھ کر اپنے مفاد یا دوسروں کی خوشنودی کے پیش نظر کام کرے تو اس کو تھالی کا بیگن کہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: منکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی گئی
https://www.nopnewstv.com/monkeypox-vaccine-was-developed

تھالی کے بیگن پر ایک لطیفہ بھی ہے کہ ایک بہت بڑے صاحب آپ انھیں حاکم بھی سمجھ سکتے ہے، انھوں نے زندگی میں کبھی بیگن نہیں کھایا تھا چنانچہ ایک دن جب ان کے خانساماں نے بیگن کی سبزی بنائی اور انھوں نے اپنے نائبین کے ساتھ کھائی تو انھیں بہت پسند آئی۔ انھوں نے اپنے معتمد خاص سے پوچھا کہ یہ کونسی سبزی ہے؟ میں نے تو آج سے پہلے یہ کبھی نہیں کھائی ہے۔ معتمد نے انتہائی چاپلوسی اور خوشامد سے کہا کہ حضور یہ کوئی عام سبزی نہیں بلکہ سبزیوں کا بادشاہ ہے اور اس سلسلے میں کوئی ابہام نہ رہے تو قدرت نے اس کے سر پر تاج بھی بنایا ہے۔ دوسرے نائب کو خیال آیا کہ کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائے تو اس نے کہا کہ حضور یہ واحد سبزی ہے جو جامنی رنگ کی ہے اس طرح قدرت نے اس کی انفرادیت کو برقرار رکھا ہے میں تو کہتا ہوں کہ یہ سبزی تو خود اپنی ذات میں انجمن ہے بالکل فلمسٹار انجمن کی طرح، چونکہ فلمسٹار انجمن صاحب کی پسندیدہ تھی تو انھوں نے حکم دے دیا کہ آج سے روزانہ بیگن کی سبزی بنے گی۔ چند ہی دن بیگن کھا کھا کی انھیں بدہضمی ہوگئی اور جب ظہرانے پر انھوں نے بیگن کی سبزی کو دیکھا تو غصے میں آگئے کہ یہ کیا واہیات سبزی ہے۔ تمام نائبین نے یک آواز میں لبیک کہا اور ایک نے جس نے چند دن پہلے بیگن کے رنگ کی تعریف کی تھی آج کہا کہ حضور یہ اتنی واہیات سبزی ہے کہ اس رنگ کی دوسری کوئی اور سبزی نہیں تو صاحب نے حیرت سے کہا کہ لیکن چند دن پہلے تو تم نے کچھ اور کہا تھا تو اسی نائب نے کہا کہ ہم جناب والا کے نائبین ہیں بیگن کے تھوڑا ہی ہے۔

ہمارے معاشرے میں تھالی کے بیگن کی کمی نہیں ہے لیکن ایک بات واضح طور پر بتانے کی ضرورت ہے کہ اس تحریر اور بیگن کی تھالی کا میرا مطلب ہے کہ تھالی کے بیگن کا ڈپٹی اسپیکر کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہماری عدلیہ آزاد بھی ہے اور خود مختار بھی ہے۔ بس عدالت یہ چاہتی ہے کہ اس کے فیصلوں کے پیچھے ریاستی قوت ہوں تاکہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کیا جاسکے لیکن جب "قوت” ہی ریاست ہوں تو اس کا ہر فیصلہ عدالتی فیصلہ ہوتا ہے نظریہ ضرورت کے تحت بس یہ مت پوچھئے گا کہ کس کی ضرورت کے تحت۔ ایسی تمام تحاریر میں سوچنے والوں کیلئے "نشانیاں” اور لکھنے والوں کیلئے "پریشانیاں” ہوتی ہیں۔ اس سے زیادہ لکھا نہیں جاسکتا بلکہ شائد جو لکھ دیا وہ بھی کچھ زیادہ ہی ہے آپ دعا کیجئے گا کہ اللہ ایسے تمام لکھنے والوں کو سمجھ اور عقل سلیم عطا فرمائیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

مسیحا نما جلاد ! ۔۔۔ تحریر : شاہد مشتاق

وہ رمضان 6 جون 2017ء کا ایک ابر آلود دن تھا مجھے لمبے عرصے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے