تازہ ترین
Home / اہم خبریں / شعبہ تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر ان تمام شعبوں کا بوجھ نجی اداروں نے اٹھا رکھا ہے۔ اپسما کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس

شعبہ تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر ان تمام شعبوں کا بوجھ نجی اداروں نے اٹھا رکھا ہے۔ اپسما کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آل پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن سندھ اپنے دیگر مرکزی عہدیداران مسسز شاہین قسیم الدین، عتیق شمسی، فرقان بلال، سید طارق شاہ، محمد آصف خان، عشرت احمد، محمد عمران، شبیہ احمد، اظہر علی، ولید بخاری اور بینظیر آباد سے آئے ہوئے ذوالفقار راجپوت کے ہمراہ گزشتہ دنوں کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ ہم نجی تعلیمی اداروں کو درپیش دو اہم مسائل ہیں جس پر میں تمام صحافی بھائیوں کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں ہر آنے والا نیا سال پرائیویٹ اسکولوں کے لئے پریشانیوں میں اضافہ کر رہا ہے جیسا کہ آ پ جانتے ہیں کہ شعبہ تعلیم سے حکومت کی طرف سے کنارہ کشی اختیار کی جارہی ہے۔ اس لئے اس وقت شعبہ تعلیم میں 70 فیصد سے زائد نجی تعلیمی ادارے کردار ادا کر رہے ہیں اور تعلیم کے شعبہ میں 30 فیصد سے کم سرکاری ادارے ہیں جن پر 100 فیصد تعلیمی بجٹ کی رقوم خرچ کی جاتی ہے۔ سرکاری اسکول کے حالات آ پ سب کے سامنے ہیں جبکہ نجی تعلیمی ادارے اپنی مدد آ پ کے تحت قائم ہیں جن کو تعلیمی بجٹ سے کوئی مالی مدد نہیں کی جاتی اور تمام ٹیکسسز وچارجز جو انڈسٹری پر لگائے جاتے ہیں نجی تعلیمی اداروں پر نافذ کردئیے گئے ہیں۔ آ ج ہم بڑے افسوس کے ساتھ گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ اتنے بڑے کراچی شہر کے صرف چند اسکولز جو اپنی من مانی کرتے ہیں اُن کے ساتھ جو سلوک ہونا چا ہیے ویسا سلوک تمام نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ کیا جارہا ہے جب کہ 80 فیصد نجی تعلیمی ادارے اپنی زمہ داریاں محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے انجام دے رہے ہیں۔ جیسا کہ شہرِ کراچی آ لودہ اور کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے اسی طرح آ ج زیادہ تر پاکستانی عوام اس چیز کو محسوس نہیں کر رہے ہیں کہ شعبہ تعلیم ، صحت اور ٹرانسپورٹ حکومت کی زمہ داری ہوتی ہے مگر ان تمام شعبوں کا بوجھ نجی اداروں نے اٹھا رکھا ہے۔ ہمارے شہر کے مالی اعتبار سے مستحکم افراد اپنے بچوں کو جن اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں اُن ہی کے خلاف زہر و آگ اگل رہے ہیں اگر ان کو جن اسکولوں میں اُن کے بچے پڑھ رہے ہیں اُن سے کوئی شکا یت ہے تو وہاں سے اٹھاکر دوسرے اسکول میں داخل کرادیں۔ اُن کو پابند تونہیں کیا گیا کہ اپنے بچوں کو صرف اُن ہی اسکولوں میں پڑھائیں اور پھر وہ تمام نجی تعلیمی اداروں کو اسی اعتبار سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جب کہ 80 فیصد نجی تعلیمی ادارے انتہا ئی مناسب فیس چارج کررہے ہیں اور معیاری تعلیم سے قوم کے بچوں کو آراستہ کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو مافیا ، غنڈہ اور ناجانے کتنے کتنے گندے الفاظو ں سے نواز رہے ہیں جس سے تعلیمی اداروں کا تقدس تو پامال ہو رہا ہے جبکہ اُن کے اپنے بچوں کے دلو ں سے احترامِ استاد ختم ہو تاجارہا ہے۔ بچے جب گھر پر اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کے لئے گندے الفاظ اپنے والدین سے سنتے ہیں تو کردار کشی ہوتی ہے اور ان کا خود کا مستقبل تاریکی کی طر ف جارہا ہے۔ تمام نجی تعلیمی ادارے تعلیم کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرنے کا زریعہ ہیں اور اس زمانے میں خواتین کے لئے بہترین اور با عزت روزگار کا شعبہ نجی تعلیمی ادارے ہی ہیں۔ ہمیں بحیثیت استا د موجودہ ملکی حالات کا صدمہ ہے اور کل آ نے والے حالات اس سے بد ترین نظر آ رہے ہیں اور خدانخواستہ پاکستان کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے( اللہ نہ کرے) ۔ اسی لئے ہم تمام والدین اور معزز شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ موقع کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے غلط اور ہتک آ میز الفاظ سے پرہیز کریں۔ اسکے ساتھ ساتھ میڈیا سے گزارش ہے کہ بغیر تصدیق کے کوئی خبر بریک نہ کریں جیسا کہ جون و جولائی کی فیسیں وصول نہ کرنے کے حوالے سے غلط اور غیر مصدقہ خبر بڑے پیمانے پر پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر معزز عدالت کے حوالے سے شائع ہوئیں۔ جس کی وجہ سے والدین اور انتظامیہ کے درمیان بد مذہبی پیدا ہورہی ہیں اگر ہم جون جولائی کی فیس وصول نہ کریں تو ٹیچرز، آفس اسٹاف، گارڈ اور چوکیداروں کی تنخواہیں، بلڈنگز کا کرایہ، اولڈ ایج بینیفٹ فنڈز، سوشل سیکورٹی اور اسکول مینٹیننس کے اخراجات کہاں سے کریں گے جبکہ والدین کی طرف سے ہر ماہ فیس ادا نہ کرنے کا تناسب بڑھتا جارہا ہے جوکہ اب تقریباً % 30 سے زائد ہوگیا ہے ہم والدین کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھتے ہوئے ان کے بچوں کو گھر واپس نہیں بھیجتے جس کی وجہ سے % 30 بچوں پر 3 ماہ سے سال بھر کی فیس واجب الادا ہوتی ہے جب ان پر فیس کی ادائیگی کیلئے ریمائنڈر جاری کیے جاتے ہیں تو وہ خاموشی سے اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے جنریٹر پر ہزاروں روپے کا پیٹرول ہر ماہ استعمال ہورہا ہے سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے گارڈز اپائنٹ کیے جاتے ہیں حالات یہ بتارہے ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک بڑی سازش کے تحت تعلیم جیسے شعبہ میں والدین اور اسکول انتظامیہ میں نا اتفاقی پیدا کرکے پاکستان کا مستقبل تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی کسی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دوسرا مسئلہ معزز سپریم کورٹ کے حوالے سے کنٹونمنٹ بورڈ کے علا قوں میں قائم نجی تعلیمی اداروں کو فوری اُن علا قوں سے شفٹ کرنے کا فیصلہ آ یا ہے۔ جب کہ کے ڈی اے کی جاری کردہ لیز والے اسکولوں کو بھی شفٹ کرنے کے نوٹس جاری کئے گئے جارہے ہیں۔ ہمارا مو قف یہ ہے کہ اگر ان تمام اسکولوں کو وہاں سے شفٹ کردیا جائے تو وہا ں کے بچے کہا ں تعلیم حاصل کرینگے۔ اس لئے ہم معزز عدالت سے تعلیم کے مفاد میں اپیل کرتے ہیں کہ جو اسکو ل پہلے سے قائم ہیں انہیں شفٹ کرنے کے نو ٹس جا ری نہ کئے جائیں بلکہ نئے اسکول قائم کرنے کی اجا زت نہ دی جائے۔ کیونکہ اس وقت اِن علاقوں میں جو نجی تعلیمی ادارے قائم ہیں اُن کو ڈائریکٹوریٹ جو کہ سرکاری ادارہ ہے نے رجسٹریشن جاری کئے ہیں جبکہ بورڈ آٖف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی نے بھی اُن کو الحاق کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔ جو غیر رجسٹرڈ اسکول اِ ن علا قو ں میں قائم ہیں بے شک ان کو شفٹ کرنے کے نوٹس جاری کردئیے جائیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے