تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پی ڈی ایم کے جلسہ میں ایک بار پھر ڈاکٹر عافیہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

پی ڈی ایم کے جلسہ میں ایک بار پھر ڈاکٹر عافیہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے فضل الرحمٰن پی ڈی ایم کے پاور شو میں ایک بار پھر ڈاکٹر عافیہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ مہنگائی سمیت تمام ایشوز پر بات کی گئی لیکن قومی غیرت کے اتنے اہم معاملے کو نظر انداز کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اپوزیشن بھی ملک و قوم سے مخلص نہیں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کرپشن، حق تلفیوں اور ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے ایک ہی پیج پر ہیں۔ اس سے بڑا اور اہم کوئی مسئلہ ہو ہی نہیں سکتا جسے یہ دونوں بری طرح نظر انداز کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم جب تک ڈاکٹر عافیہ کے مسئلے پر آواز بلند نہیں کرے گی عوام انہیں شک کی نگاہ سے ہی دیکھیں گے۔ عافیہ کو الگ رکھ کر انہیں عوام میں نہ تو پذیرائی مل سکتی ہے نہ ہی اپوزیشن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ضمیروں کو پرکھنے کی کسوٹی بن چکی ہے۔ اگر اپوزیشن سیاستدان مخلص ہیں تو اپنے مطالبات میں عافیہ رہائی کے مطالبہ کو سرفہرست رکھیں ورنہ عوام ان کی کال پر لبیک کہنے سے انکار کردیں۔ جو قوم کی بیٹی کا نہیں، جو ملک و قوم کے نہیں وہ کسی کے کیا ہوں گے؟ وزیر اعظم عمران خان عافیہ صدیقی کے معاملے پر یو ٹرن نہ لیں، انتخابی منشور میں بنائے گئے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی او ر وطن واپسی کے نعرے کو سچ ثابت کریں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں ڈاکٹر عافیہ کے 777 دن امریکی قید ناحق میں گذر چکے ہیں۔ عافیہ کا قید تنہائی میں گذرنے والا ہر دن وزیراعظم کے اختیارات پر سوالیہ نشان بنا رہے گا۔ عمران خان نے عافیہ کے معاملے میں قوم سے بہت بڑا دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے انتخابی نعروں میں عافیہ کی رہائی کو استعمال کیا اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد عافیہ کا نام تک بھول گئے۔ عمران خان اگر واقعی بااختیار وزیراعظم ہیں تو قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟ عافیہ صدیقی سمیت ملک کی عافیائیں زندہ درگور ہو رہی ہیں، حکومت اور اپوزیشن لیڈروں کو ان کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔ پی ڈی ایم نامی اپوزیشن اتحادعوام دشمن اتحاد ہے جو قوم کے مسائل کے حل کے لئے نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے لئے کیا گیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے اہم مسئلے پر بات نہ کرنا ہے جو آج عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ کرپٹ لیڈروں کے ایجنڈے میں عوامی مسائل موجود نہیں ہیں، عوام کو ایسے اتحادوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ عوامی پریشر بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، اگر پاکستان کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں متحد ہو کر ایک دن کے لئے پورے ملک میں ایک ساتھ مشترکہ احتجاج کریں تو عافیہ کی فوری رہائی ناممکن نہیں۔ عافیہ کے معاملہ میں بے حسی اختیار کرنے والے قوم کی کسی بیٹی کا احساس نہیں کر سکتے۔ حکمران پورے عزت و وقار کے ساتھ اپنے ملک کی شہری اور قوم کی بیٹی کو واپس لائیں۔ قوم اپنی بیٹیوں کو نہیں بھول سکتی۔ بحیثیت پاکستانی قوم حکومت، اپوزیشن اور عوام کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لئے مشترکہ آواز اٹھانی چاہئیے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے