تازہ ترین
Home / اہم خبریں / پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے مہنگائی بڑھ گئی ہے، حکومت نے ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کی بجائے بے لگام چھوڑ دی ہے۔ الطاف شکور

پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے مہنگائی بڑھ گئی ہے، حکومت نے ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کی بجائے بے لگام چھوڑ دی ہے۔ الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والی مہنگائی کی وجہ پاکستانی روپے کی ناقدری اور ڈالر کی اونچی اڑان ہے۔ حکومت نے ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کی بجائے بے لگام چھوڑ دی ہے۔ روپے کی قدر بے تحاشہ کم کرنے کا سب سے بڑا نقصان قرضوں اور سود کی شرح میں اضافے کی صورت میں نکلا۔ پی ٹی آئی حکومت نے قوم پر بیرونی قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا۔ ڈالر مہنگا ہونے سے معیشت کمزور ہوئی، مہنگائی بے تحاشہ بڑھی اور غربت کی شرح مزید بڑھ گئی۔ الیکشن میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کو خود کشی ترجیح دینے والوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر لیا ہے اور خود کشی پاکستانی عوام کے لیے چھوڑ دی ہے۔ ضروری ہے کہ اب غفلت اور لاپروائی برتنے کے بجائے ڈالر کی قدر میں کمی لانے کے لیے بہتر حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ غریب عوام کو اوپر لانے والی دعوے دار حکومت، اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے اور غیر مناسب پالیسیوں کی وجہ سے غریب عوام سے دو وقت کی روٹی بھی، دور کرتی جا رہی ہے۔ ڈالر، پیٹرول، گیس اور سی این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے چھوٹی سے چھوٹی چیز روٹی، آٹا، دال، چاول وغیرہ سے لے کر ہر چیز بے تحاشہ مہنگی ہو گئی ہے۔ یہ عوام کے استعمال کی چیزیں ہیں، یہ اگر مہنگی ہیں تو عام آدمی تکلیف میں ہے۔ اگر عام آدمی تکلیف میں ہے تو حکومت کیسے زیادہ دیر چلے گی؟ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نے عوام کی قوت خرید کم کر دی ہے۔ جس شخص کے پاس دس لاکھ روپے تھے ان کی قیمت ایک سال میں پانچ لاکھ کے برابر رہ گئی ہے۔ جتنے پیسوں میں پہلے 16 سو سی سی گاڑی آتی تھی اس میں اب 13 سو سی سی گاڑی بھی نہیں آ تی۔ ڈالر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمت پاکستانی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اگر فوری طور پر ڈالر کی قیمت کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں ملک میں مہنگائی کا نیا سیلاب آئے گا۔ اگر ڈالر کی قیمت کم نہ ہوئی توغذائی اشیا سمیت تمام در آمدی مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔ غریب عوام کو ریلیف دینے کے دعوے دار بتائیں، کہ غریب عوام کیا کھائیں؟ کہاں سے اپنے اور اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی عزت کی کمائی سے پورا کریں؟ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ڈالر کی اونچی اڑان کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے طوفان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈالر کی قیمت اوپن مارکیٹ متعین کرتی ہے جبکہ پاکستان میں معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ یہاں ڈالر کی قدر کا تعین دو طرح ہوتا ہے۔ اول انٹر بینک مارکیٹ جہاں بینک آپس میں ڈالر کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت کرتے ہیں اور یہاں کی قیمت کو ڈالر کا انٹر بینک ریٹ کہا جاتا ہے جبکہ دوسری اوپن مارکیٹ ہے جہاں سے عام لوگوں کی ڈالر کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ حکومت اور سٹیٹ بینک ڈالر کی قدر متعین کرنے کے معاملے میں اوپن مارکیٹ میں دخل اندازی کرتے ہیں یہ فیصلہ کرنے کیے لیے کہ اس کی قیمت کو ایک وقت میں کتنا ہونا چاہیئے۔ غیر منتخب آئی ایم ایف کے مشیروں کی ملک دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ڈالر کی مسلسل اڑان اور کنٹرول نہ ہونے سے ضروریات زندگی کی اشیاء سے لیکر ملک میں تیار ہونے والے آرٹیکل اور بیرون ممالک سے درآمد ہونے والے مال پر قیمتوں کا کنٹرول ختم ہو چکا ہے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے