آئین پاکستان جہاں سخت ہےوہیں لچک کا عنصر بھی پایا جاتا ہے جس کی بناء پر سنگین نتائج کے مجرمان جلد سلاخوں سے باہر آجاتے ہیں۔کسی بھی مذہب میں توہین ایمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے اور کوئی بھی شخس اپنے مذہب یا نبی کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔اس ضمن میں مرتکب شخص کو جان سے مار دینے کی بھی پرواء نہیں کی جاتی۔میری تحقیق کے مطابق تمام مذاہب میں گستاخی کے مرتکب شخص کو کڑی سے کڑی سزا دیئے جانے کا قانون ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی مذہب کی گستاخی نہ کرے۔
1973آئین کے آرٹیکل 295سی کے تحت اگر کوئی شخص نبی آخرالزماں حضور اقدس صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے، اہانت کرتا ہے ، کچھ غلط الفاظ استعمال کرتا ہے ، کچھ غلط لکھتا ہے، وہ گستاخانہ بات چاہے وہ بالواسطہ کرتا ہے یا بلاواسطہ اس کی سزا قانوناً موت ہے مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس قانون کو قانونی کتابوں کا حصہ تو بنا دیا گیا مگر اسے عملی طور پر غیر موثر کر دیا گیا ۔ ملک میں آنے والی ہر جمہوری و غیر جمہوری حکومت نے اس قانون کو غیر موثر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیا۔ سابقہ ریکارڈ کے مطابق اس قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے کسی مجرم کو سزا نہیں دی گئی بلکہ مجرموں کو اس قانون کی آڑ میں تحفظ فراہم کیا جاتا رہا جس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں ۔
14 اکتوبر 1996ء ایوب مسیح نامی شخص کو 295سی کی خلاف ورزی (توہین ناموس رسالتؐ) پر گرفتار کیا گیا تو پورے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا رنڈی رونا مچایا گیا لیکن 20 اپریل 1998کو معزز جج عبدالحمید نے ایوب مسیح پر الزامات کو سچ مانتے ہوئے پھانسی کی سزا کے ساتھ ایک لاکھ جرمانہ کا فیصلہ سنایا لیکن بعد ازاں مجرم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جس کے نتیجہ میں 16اگست 2002کو سپریم کورٹ نے توہین رسالتؐ کے مجرم کو چھوڑ کر گستاخی کی نشاندہی کرنے والے محمد اکرم کو قصور وار ٹھہرایا اور اسکے خلاف قانونی کاروائی کا حکم دیا۔
اکتوبر 2000میں میڈیکل کے طلبہ کی نشاندہی پر ایک پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس شیخ کو گرفتار کیا گیا اس کے خلاف طلبہ نے گواہی دی کہ اس نے دوران لیکچر نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی اور نازیبا الفاظ استعمال کیے ۔ عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ اور پھانسی کی سزا سنائی مگر کچھ غائبانہ ہاتھوں نے مجرم کو راتوں رات سوئٹزرلینڈ پہنچا دیا ۔ جہاں اس کے بیرونی آقائوں نے اسے ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ اور ہیومنسٹ جیسے خطابات دیئے اور اب وہ فری تھنکر نامی ایک تنظیم کا چئیرمین ہے۔
22 اکتوبر 2009کو ہیکٹر علیم جو کہ عیسائی ہیومن رائیٹ ایکٹوسٹ تھا کو توہین مذہب کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ۔اس نے سنی تحریک کے کسی لیڈر کو گستاخانہ میسج کیا تھا ۔ ہیکٹر علیم پر سی ڈی اے(کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی جانب سے غیر قانونی چرچ کی تعمیر کا مقدمہ بھی تھا مگر اسے کسی قسم کی سزا نہیں دی گئی کیونکہ وہ نام نہاد ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ تھا ۔ سات جولائی 2009کو دو بھائیوں پر حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور حضورﷺ کے خاندان مبارک پر تبرا کرنے کے جرم میں مقدمہ درج ہوا مگر حکومتی پشت پناہی میں وہ فرار ہو کر یورپ چلے گئے اور مغربی آقائوں کی گود آباد کی۔ جس کے رد عمل میں 30جولائی 2009گوجرہ میں چند عیسائی گھر جلائے گئے اور فساد پھوٹے ،مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا مگر خاموشی اختیار کی گئی ۔ ان فسادات کے بعد مسلمانوں پر مقدمات درج ہوئے گرفتاریاں ہوئی مگر توہین رسالت کے مجرم ریاست کے "مضبوط شکنجے” سے چکنی مچھلی کی طرح پھسل گئے۔
جون 2009میں آسیہ بی بی نے فصل کی کٹائی کے دوران مسلمان عورتوں کے سامنے حضور ﷺ کی شان میں توہین کی اور نازیبا الفاظ استعمال کیے ۔ نومبر 2010 میں آسیہ کو موت کی سزا سنائی گئی مگر گورنر سلمان تاثیر میدان میں کود پڑے اور جیل میں ملعونہ آسیہ سے ملاقات کی اور اس کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے کہا وہ جلد آزاد ہو جائے گی اور ساتھ ہی ناموس رسالتؐ کے قانون پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا۔4 جنوری 2011 کو ذاتی گارڈ محمد ممتاز قادری کی طرف سے گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا ۔ اس کے بعد عدالتوں نے سابقہ روایت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آسیہ مسیح کو بری کر دیا اور عوامی پریشر کے باوجود موجودہ حکومت نے اسے اپنے مغربی آقاؤں کی گود میں پکے پھل کی مانند ڈال دیا اور محمد ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا سناتے ہوئے فوری عمل درآمد کے احکامات جاری کئے گئے۔ رمشہ مسیح نامی لڑکی کو اسلام آباد سے قرآن مجید کے صفحات جلانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا عدالت نے اسے پھانسی کی سزا سنائی مگر تاحال اس پر بھی عملدرآمد رکا ہوا ہے ۔
دسمبر 2013 میں لاہور سے سلمہ فاطمہ نامی عورت کو پمفلٹ تقسیم کرتے ہوئے پکڑا گیاجس میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا مگر اس کا بھی کوئی اتا پتا نہیں کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ اوپر دیے گئے تمام کیس ریاست کے بنائے گئے نظام سے گزر چکے ہیں مگر کسی مجرم کو سزا نہیں ہوئی ، اس طرح کے سینکڑوں اور کیس بھی موجود ہیں جنہیں حکومتی سرپرستی یا بیرونی دبائو پر دبایا گیا ہے ۔ریاست توہین رسالت صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے قانون پر عملدرآمد نہ کر کے پشاور کورٹ جیسے واقعات کیلئے خود راہ ہموار کرتی ہے۔ پچھلے دو سالوں میں ناموس رسالتؐ اور ختم نبوتؐ کے قانون کے خاتمے کیلئے کئی کوششیں ہو چکی ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ ناموس رسالت صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم پر بنائے گئے قانون کی شق 295سی ختم کرنے سے ناموس رسالت صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا قانون ختم ہو جائے گا لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔ ناموس رسالتؐ کا قانون 295سی کا محتاج نہیں کیونکہ مذکورہ قانون پر نہ کبھی عملدرآمد ہوا اور شائد نہہی کبھی ہو گا اس لئے یہ قانون مزید قانون رہے یا نا رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
اگر 295 سی ختم کر دیا گیا یا اسے مزید غیر موثر کر دیا گیا تو آج کی طرح عدالت میں فیصلہ جج نہیں بلکہ باہر سے آیا کوئی نوجوان کر دے گا اور فیصلے عدالتوں سے باہر چوکوں اور چوراہوں پر ہوں گے۔ جب بازی عدالت سے نکل کر عاشقان کے پاس پہنچے گی تو عاشق دلیل نہیں مانگتے ، عشق کی اپنی دلیلیں ہیں اور اپنی منطق ۔ عشق کے فیصلے گواہ اور ثبوت سے ماورا ہوتے ہیں ۔جہاں قانون کی سرحد ختم ہوتی ہے وہاں سے عشق کی منزل شروع ہوتی ہے ۔ عشق جو فیصلہ کرتا ہے بے دلیل کرتا ہے اور "آن دی سپاٹ” کرتا ہے ، نہ لمبی پیشیاں اور نہ ای سی ایل کے چکر، بس پکڑو اورلٹکا دو ۔یہ عدالتیں ، یہ وکیل ، یہ آئین ، یہ آرٹیکل سب اہل عقل کے پھیلائے جال ہیں اور عاشق کے پاس بس دل ہوتا ہے اس کا ہر فیصلہ دل اور دماغ کرتا ہے اور دل سے کیے گئے فیصلے صحیح یا غلط کے محتاج نہیں ہوتے نہ ہی ان پر دوبارہ اپیل ہو سکتی ہے۔
پشاور کورٹ میں ہونے والے واقعہ پر تذبذب کا شکار تھا کہ یہ ٹھیک ہوا یا غلط، مگر گستاخ کی ویڈیو آنے کے بعد جب معاملہ کلئیر ہوا تو پتا چلا اس نوجوان کا فیصلہ بالکل درست تھا، وہ جانتا تھا کہ کورٹ کچہری کے ایک لمبے پراسس کے بعد اس گستاخ کو بھی ہیرو بنا کر خاندان سمیت مغرب بھیج دیا جائے گا۔ اس واقعہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ناموس رسالت صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا قانون فطری ہے وہ 295سی کا محتاج نہ تھا اور نہ رہے گا۔ اب یہ ریاست اپنے بنائے قانون کو موثر کرے اور چوکوں چوراہوں پر لگنے والی عدالتوں کا راستہ روکے ورنہ یہاں ہر ماں کا بیٹا غازی علم دین ،ممتاز قادری اور خالد خان بننے کا خواب بچپن سے دیکھ لیتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ 1973 کے آئین کے تحت پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298C اور 298B میں قادیانیوں پر درج پابندیاں عائد ہیں ان پر بھی خاص نظر رکھی جائے کیونکہ پاکستان میں بیرونی آقائوں کی بھرپور کوشش سے یہ طبقہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ 1۔قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔ 2۔آذان نہیں دے سکتے۔ 3۔اپنےآپ کومسلمان نہیں کہہ سکتے۔ 4۔پنےمذ ہب کو اسلام نہیں کہہ سکتے۔ 5۔اپنے مذہب کی دعوت نہیں دے سکتے۔ اب یہ ریاست اور ریاست کے ستونوں کو چلانے والوں پر منحصر ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 295 سی اور پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298C اور 298B پر فوری عمل درآمد کروائے اور بیرونی آقائوں کی جی حضوری چھوڑ کر اسلام اور وطن عزیز کا نام بلند کریں بصورت دیگر وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں اسلام کا دیا بجھ جائے اور مغربی آقائوں کا راج ہو۔