کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے سیکریٹری سندھ بار کونسل عرفان مہر کی ٹارگٹ کلنگ قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ حلیم عادل شیخ نے بدھ کو چھیپا مردہ خانہ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور صوبے کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی پاسداری کرنے والے وکیل کو سڑک پر نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث مجرم تربیت یافتہ دہشت گرد تھے۔ انہوں نے کہا ایک بار پھر سندھ میں ٹارگٹ کلنگ شروع ہوگئی ہے عوام کی جان و مال محفوظ نہیں ہے سندھ کی پولیس سیاسی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ جن کے پاس وزیر داخلہ کا قلمدان بھی ہے وہ امن و امان برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں جب کہ پولیس کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے اور ان کے غیر قانونی کاروبار کی سرپرستی کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں ٹرینوں، رینجرز کی تنصیبات پر حملوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کا مجرمانہ سرگرمیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند روز قبل پی ٹی آئی کے ایک بانی رکن رانا سخاوت راجپوت کو قمبر شہداد کوٹ اضلاع میں نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اسی بہانے دو مزید مزدوروں کو بھی قتل کیا گیا تھا اور بعد میں ایک کالعدم تنظیم نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ دہشت گردی کے واقعات کا ایک بھی مجرم اب تک پکڑا نہیں گیا اور نہ ہی ہمیں امید ہے کہ سندھ پولیس عرفان مہر، رانا سخاوت یا نوشین شاہ کے قاتلوں کو پکڑ سکے گی کیونکہ سندھ پولیس پر بہت زیادہ سیاست کی گئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ان کے انتخابی حلقے میں دو ہفتوں کے اندر قتل کے 4 واقعات ہوئے جبکہ دیگر جرائم کی درجنوں ایف آئی آر بھی درج کی گئیں لیکن پولیس فورس جسے ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے زیر کنٹرول تھا، زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے اورغیر قانونی تعمیرات میں مدد کے لیے تعینات کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے سندھ کارڈ کھیل کر وہ صوبے میں نفرت پھیلا رہے ہیں اور نسلی تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں جبکہ سندھ کے عوام عدم تحفظ اور مایوسی کے احساس میں مبتلا ہیں۔ آئی جی پولیس سندھ بے اختیار ہے اور ماتحت پولیس افسران غیر متعلقہ افراد کو رپورٹ کر رہے ہیں، حلیم عادل نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے آئی جی سندھ اور محکمہ پولیس کو اپنا جامعہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ پر بھی زور دیا کہ وہ صوبے میں موجودہ امن امان کی خراب صورتحال کے خاتمے اور امن و امان کی بحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ حلیم عادل نے وکلاء برادری کو پی ٹی آئی کی حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ اگر صوبے میں امن و امان بہتر نہ ہوا تو ان کی پارٹی ان کے ساتھ سڑکوں پر آئے گی۔